سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 397
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 377 رقم کی۔ ان کی یہ قربانی یقیناً جماعت میں جانوں کی اجتماعی قربانی کی ایک منفر د مثال ہے۔ ان سب کا ذکر خیر آپ میرے خطبات میں سن ہی چکے ہیں۔ یہاں مختصراً اتنا ہی کہوں گا کہ اللہ تعالیٰ نے ان شہداء کو بہت سی عظیم الشان خوبیوں سے متصف کیا تھا۔ نمازوں کا اہتمام، تلاوت میں با قاعدگی، خلافت سے محبت اور اخلاص و وفا، بچوں کی نیک تربیت اور اس پہلو سے ان کی مسلسل نگرانی جیسے اوصاف ان سب شہداء میں نمایاں طور پر پائے جاتے تھے۔ وہ دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور ہمیشہ دین کو دنیا پر مقدم رکھتے۔ اپنے ماتحتوں اور ساتھ کام کرنے والوں سے حسن سلوک اور خوش اخلاقی سے پیش آنا، غریبوں سے ہمدردی ، تمام رشتوں کا خیال رکھنا، ان کے بنیادی اخلاق کا حصہ تھا۔ یقینا ان میں سے ہر ایک اپنے عہد کو پورا کرنے والا ایک روشن اور چمکدار ستارہ تھا۔ یہ لوگ ہمیں بھی عشق و وفا کے لہلہاتے کھیتوں کی طرف لے جانے والے ہیں۔ دشمن نے ایک مذموم سازش کی اور اپنے زعم میں احمدیوں سے ان کا دین اور ایمان چھینا چاہا لیکن اس کا یہ خواب پورا نہ ہو سکا۔ ہم نے تو یہ نظارے دیکھے کہ باپ کے شہید ہونے پر نو دس سالہ بیٹے کو ماں نے یہ نصیحت کر کے مسجد بھجوایا کہ بیٹا وہیں کھڑے ہو کر جمعہ پڑھنا جہاں تمہارا باپ شہید ہوا تھا تا کہ یہ بات تمہارے ذہن میں رہے کہ موت ہمیں ہمارے عظیم مقاصد کے حصول سے خوفزدہ نہیں کر سکتی۔ پس جس قوم میں ایمان کی دولت سے لبریز ایسے بہادر بچے اور مائیں ہوں اس قوم کی ترقی کو کوئی دشمن اور دنیاوی طاقت روک نہیں سکتی۔ مخالفین اور دشمنان احمدیت کے ظالمانہ فعل اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ دعاؤں سے اور دلائل سے جماعت احمد یہ کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن کی ہر قسم کی مذموم حرکتوں کے باوجود احمدیت ہر جہت اور ہر سو پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ سانحہ لاہور کے بعد بھی کئی سعید فطرت لوگوں نے بیعتیں کی ہیں۔ اس واقعہ نے جماعت کے ایمانوں کو مضبوطی بخشی ہے۔ جماعت میں عبادات، خلافت سے عشق و وفا، باہم محبت اور اتحاد کا جذبہ پہلے سے بہت بڑھا ہے۔ ساری جماعت نے شہداء کی فیملیوں کی تکلیف اور غم کو جس طرح اپنے دلوں میں محسوس کیا ہے اور مجھے لکھ لکھ کر اس کا اظہار بھی کیا ہے یہ سوائے ایمان کی دولت کے نصیب نہیں ہو سکتا اور روئے زمین پر