سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 395 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 395

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 375 تیسری بات دین کی خاطر مالی قربانیوں کی طرف توجہ دینا ہے۔ میں نے صف دوم کے انصار کو نظام وصیت میں شامل ہونے کی طرف توجہ دلائی تھی۔ ہر مجلس کی سطح پر اس کیلئے کوشش ہونی چاہیے۔ اس نظام میں شامل ہونے والوں کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی دُعائیں کی ہیں۔ اسی طرح دوسری مالی تحریکات بھی ہیں، ان میں بھی حصہ لیں اور اس حوالے سے اپنا جائزہ لیں کہ کیا ہم انصار اللہ ہونے کا حق ادا کر رہے ہیں؟ انصار اللہ کا ایک اور اہم کام خلافت سے وابستگی اور اُس کے استحکام کیلئے کوشش کرنا ہے۔ جماعت اور خلافت ایک وجود کی طرح ہیں۔ افراد جماعت اس کے اعضاء ہیں تو خلیفہ وقت دل و دماغ کے طور پر ہیں۔ کیا کبھی ایسا ممکن ہوا ہے کہ انسانی دماغ ہاتھ کو کوئی حکم دے اور ہاتھ اُسے رڈ کر کے اپنی مرضی کے مطابق حرکت کرے۔ اگر آپ اس تعلق کو سمجھ جائیں اور اگر یہ سوچ ہر ایک میں پیدا ہو جائے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی فرد جماعت اپنے فیصلوں اور اپنے علمی نکتوں اور اپنے عملوں پر اصرار کریں۔ پس آپ کی ہر حرکت و سکون خلیفہ وقت کے تابع ہونی چاہیے۔ انصار اللہ کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ آپ کے عملی نمونے اور پاک تبدیلیاں دوسری تنظیموں اور افراد جماعت سے بڑھ کر ہونی چاہئیں۔ ہمارے بڑوں نے انصار اللہ ہونے کا حق ادا کیا اور بے نفس ہو کر دین کی خاطر قربانیاں کیں تو آج ہمارا فرض ہے کہ ایک جہدِ مسلسل اور دُعاؤں کے ساتھ اپنے پیچھے آنے والوں کیلئے نیکی کے راستے ہموار کرتے جائیں۔ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس نصیحت کو پلے باندھ لیں۔ آپؐ فرماتے ہیں کہ : دو بیعت کی حقیقت یہی ہے کہ بیعت کنندہ اپنے اندر سچی تبدیلی اور خوف خدا اپنے دل میں پیدا کرے اور اصل مقصود کو پہچان کر اپنی زندگی میں ایک پاک نمونہ کر کے دکھاوے۔ اگر یہ نہیں تو پھر بیعت سے کچھ فائدہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی زندگیاں اس نہج پر چلانے والے ہوں۔ آمین 66 (ماہنامہ انصار اللہ ربوہ کی اشاعت کے پچاس سال پورے ہونے پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا خصوصی پیغام بحوالہ ماہنامہ انصار اللہ ربوہ اکتوبر 2010ء صفحہ 8-9)