سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 393
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 373 کہ میں جب دسویں کلاس میں پڑھتا تھا تو حضرت اقدس کے مکان کے ارد گرد ہمارا پہرہ ہوا کرتا تھا۔ چنانچہ مجھے یاد ہے کہ ہم پہرہ دے ہی رہے تھے کہ ہم نے حضرت اقدس کی وفات کی خبر سنی۔ حضور کے زمانہ میں جب ہم پہرہ دیتے تھے تو ہمارے ہاتھوں میں لاٹھیاں ہوا کرتی تھی۔ میاں فیروز دین صاحب کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت میر ناصر نواب صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور یہ جو نانبائی ہے یہ روٹیاں چرا لیتا ہے۔ حضور خاموش رہے۔ دوسرے دن پھر عرض کیا۔ حضور خاموش رہے۔ تیسرے دن پھر عرض کیا۔ آپ نے فرمایا: میر صاحب یہ تو ایک روٹی کے لئے دو دفعہ دوزخ میں جاتا ہے، ایک دفعہ نکالنے کے لئے اور ایک دفعہ لگانے کے لئے ، اس سے بڑھ کر میں اس کو کیا سزا دوں گا؟ اگر کوئی اور اس سے اچھا آپ کو ملتا ہے تو آپ لے آئیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو بھی ایمان اور ایقان میں بڑھائے اور یہ لوگ جن کی روایات ہیں یقینا ان کی نسلیں بھی یہ واقعات سن رہی ہوں گی۔ ہو سکتا ہے کچھ یہاں موجود بھی ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کو اخلاص و وفا میں بڑھاتا چلا جائے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعاؤں کے وارث ہم بھی اور ہماری آئندہ آنے والی نسلیں بھی بنتی چلی جائیں اور جلد سے جلد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے جو غلبہ اسلام کی مہم ہے اس کو بڑی شان سے کامیاب اور پورا ہوتے ہوئے دیکھیں۔“ ( خطاب سالانہ اجتماع مجلس انصار اللہ برطانیہ 3 اکتوبر 2010ء الفضل انٹر نیشنل 5 نومبر 2010ء صفحہ 1)