سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 392
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 372 دیر ہو گئی ہے اجازت دو تا کہ ہم جائیں۔ میں نے عرض کیا کہ آپ مجھے بتائیں تو سہی کہ آپ کون ہیں تا میں اپنے والد صاحب کو بتا سکوں۔ میری اس عرض پر وہ دونوں خفیف سے مسکرائے۔ کالی داڑھی والے نے کہا کہ میرا نام محمد ہے اور ان کا نام احمد ہے۔ میں نے یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن پکڑ لیا اور عرض کیا کہ پھر مجھے کچھ بتائیں۔ انہوں نے عربی زبان میں ایک کلمہ کہا جو مجھے یاد نہیں مگر اس کا مفہوم جو اس وقت میرے ذہن میں تھا وہ یہی تھا کہ تیری زندگی کے تھوڑے دن بہت آرام سے گزریں گے۔ پھر میں نے مصافحہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے باپ کو میرا السلام علیکم کہہ دینا۔ وہ باہر نکل گئے۔ میں نے ان کو رخصت کیا۔ ان کے جانے کے بعد خواب میں ہی میرے والد صاحب آگئے۔ میں نے سارا واقعہ سنایا۔ وہ فوراً باہر نکل گئے۔ اتنے میں میری نیند کھل گئی جس کا باعث یہ ہوا کہ میرے باپ نے مجھے آواز دی کہ اٹھ کر نماز پڑھو۔ کہتے ہیں میں نے اپنے والد صاحب کو یہ خواب سنائی۔ اس دن جمعہ تھا۔ جمعہ کے وقت میں نے منشی احمد دین صاحب اپیل نویس کو یہ خواب سنائی انہوں نے حضرت اقدس کی خدمت میں خود لکھ کریا مجھ سے لکھوا کر بھیج دی اور چند روز بعد کہا کہ حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ جلسے پر اس لڑکے کو ساتھ لے آؤ۔ چھوٹی عمر تھی ان کی خواب دکھائی تھی اللہ تعالیٰ نے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا کہ اس لڑکے کو ساتھ لے آؤ۔ چنانچہ جلسے پر میں گیا۔ جب ہم مسجد مبارک میں گئے تو دو تین بزرگ بیٹھے تھے ۔ ہم نے ان سے مصافحہ کیا، اتنے میں حضرت اقدس مسیح موعود تشریف لے آئے۔ ہم کھڑے ہو گئے مصافحہ کیا پھر حضور بیٹھ گئے۔ منشی احمد دین صاحب نے عرض کی کہ حضور ! یہ وہ لڑکا ہے جسے خواب آئی تھی۔ حضور نے مجھے گود میں بٹھا لیا اور فرمایا کہ وہ خواب سناؤ۔ چنانچہ میں نے وہ خواب سنائی۔ پھر اندر سے کھانا آیا۔ حضور نے کھایا اور دوستوں نے بھی کھایا۔ اور جب حضرت اقدس کھانا کھا چکے تو تبرک ہمارے درمیان تقسیم کر دیا۔ ہم نے وہاں بیٹھے ہی کھایا۔ میرے والد صاحب نے عرض کی کہ مجھے کوئی تبرک دیں۔ اللہ تعالی اس طرح بھی بچوں کو خوابیں دکھاتا ہے۔ اس زمانہ میں بھی بعض چھوٹی عمر کے بچے خوا ہیں دیکھتے ہیں۔ حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحب ابن مکرم شیخ بابو جمال الدین صاحب روایت کرتے ہیں