سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 391 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 391

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 371 لے کر گوجرانوالہ آئے اور یہاں سے قادیان گئے۔ بغیر کسی دلیل کے حضرت اقدس کا چہرہ دیکھ کر ہی وہ ایمان لے آئے۔ صاف دل کو کثرتِ اعجاز کی حاجت نہیں۔ يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُّوْحِي عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ کا ایک نظارہ رض حضرت میاں ابرا ابراہیم صاحب ابن مکرم محمد بخش صاحب روایت کرتے ہیں کہ میں نے سب سے پہلے حضرت اقدس کو اس وقت دیکھا جبکہ حضور جہلم تشریف لے جارہے تھے ، واپسی پر بھی دیکھا تھا۔ پھر لاہور 1904ء میں ، پھر 1905ء میں قادیان گیا۔ قادیان جانے سے پہلے مجھے ایک خواب آئی تھی جس کا مفہوم یہ تھا میں نے خواب میں دیکھا کہ والد صاحب گھر سے باہر گئے ہوئے ہیں اور گھر میں صرف میں اور میری چھوٹی ہمشیرہ ہیں۔ دیکھا کہ دو آدمی دروازے پر آئے ، دستک دی اور آواز دی میں نے باہر نکل کر دروازہ کھولا ۔ وہ دونوں میری درخواست پر اندر تشریف لے آئے۔ میں نے دیکھا کہ ہمارے گھر کے صحن میں ایک دری اور تین کرسیاں بھی پڑی ہوئی ہیں اور سامنے ایک میز بھی پڑی ہوئی ہے۔ میں نے ان کرسیوں پر بٹھا دیا اور چھوٹی ہمشیرہ کو کہا کہ ان کے لئے چائے تیار کرو۔ وہ کوٹھے پر ایندھن لینے کے لئے گئی۔ ابھی وہ سیڑھیوں پر ہی تھیں کہ ایک سیاہ رنگ کا اچھے قد و قامت کا سانڈ اندر آگیا، بڑا سارا بیل اور ان آدمیوں کو دیکھ کر فوراً واپس ہو گیا۔ اور سیڑھیوں پر چڑھنے لگا۔ میں نے شور ڈال دیا کہ میری ہمشیرہ کو مار دے گا۔ شور سن کر پہلے سیاہ داڑھی والے مہمان اٹھنے لگتے ہیں مگر سرخ داڑھی والے نے کہا کہ چونکہ یہ کام آپ نے میرے سپر د کیا ہوا ہے اس لئے میرا کام ہے۔ چنانچہ وہ گئے۔ میں بھی پیچھے ہو لیا۔ ہمشیرہ دیوار کے ساتھ لگ گئی۔ اور اسے کچھ خراشیں لگی ہیں مگر زخم نہیں لگا۔ ہم اوپر چلے گئے۔ سانڈ ہماری مغربی دیوار پر انجن کی شکل میں تبدیل ہو گیا۔ اور دیوار پر آگے پیچھے چلنے لگا۔ کہتے ہیں جب دیوار کے آخری کونے پر پہنچا تو اس پر مہمان نے سوٹا مارا اور پیچھے کی طرف گر کر چور چور ہو گیا۔ ہم واپس آگئے اور وہ مہمان پھر کرسی پر بیٹھ گئے اور چائے پی۔ مجھے بھی انہوں نے پلائی۔ چائے پینے کے بعد کچھ دیر وہ بیٹھے رہے، باتیں کرتے رہے پھر کہنے لگے، برخوردار ! ہمیں