سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 390 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 390

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 370 والے ہی مرزا صاحب تھے۔ دوسرے روز سب سے پہلے بیعت کا خط لکھ دیا۔ ہزاروں ہزار برکتیں نازل ہوں مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اور ان کی اولاد پر۔ حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی حضرت مولانا غلام رسول صاحب را را جیکی جنہوں نے 1897ء میں بیعت کی تھی اور 1899 ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت ہوئی۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو میں نے ایک عربی قصیدہ سنایا۔ مسجد مبارک میں مغرب کی نماز کے بعد چھت پر میں قصیدہ سنانے لگا۔ جب میں نے وہ شعر پڑھا جس میں میں نے اسلام کے علماء جو سلسلہ احمدیہ کے مخالف اور دشمن تھے ، ان کو مخاطب کرتے ہوئے شعر کہا تھا۔ جس کا یہ مطلب ہے کہ کیا تم اپنی حماقت سے اپنے دجال کی تائید کرتے ہو ؟ عیسی کی حیات کے ذریعہ ؟ جو زندوں کا تو نہیں البتہ مردوں کا سردار ہے۔ حضرت صاحب نے جب یہ شعر سنا تو آپ نے اس شعر کو بہت ہی پسند فرمایا اور فرمایا کہ یہ شعر بہت ہی اچھا ہے۔ عجیب تڑپ تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے دل میں۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو اونچا کرنے کے بارے میں کوئی بات سنتے تھے تو اس پر انتہائی پسندیدگی کا اظہار فرمایا کرتے تھے۔ اور کہتے ہیں کہ کہا اس کو دوبارہ پڑھو اور بار بار سناؤ۔ چنانچہ خاکسار نے اس شعر کو پھر دہرا کر پڑھا۔ اس کے بعد یہ شعر مجھے اب تک یاد ہی رہتا ہے اور جب میں اسے پڑھتا ہوں تو وہ سماں اور منظر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی مجلس کا میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ اور اس پیارے مسیح کی فرقت کے باعث طبیعت ایک حزن و غم اور حسرت بھی محسوس کرتی ہے۔ سو یہ شعر بھی میرے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یاد گاروں میں سے بطور ایک یاد گار کے ہے۔ پھر حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحب ابن مکرم شیخ بابو جمال الدین صاحب روایت کرتے ہیں کہ میرے والد صاحب نے 1898ء کے قریب حضرت اقدس کی بیعت کی تھی۔ وہ دمیلی میں سٹیشن ماسٹر تھے۔ جہلم کے پاس ایک جگہ ہے۔ وہاں ایک شخص نے حضرت اقدس کا ذکر کیا۔ انہوں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ قادیان جا کر اس شخص کو ضرور دیکھنا ہے۔ چنانچہ وہ رخصت