سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 38
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 18 ہر ایک کی عزت نفس ہے ۔۔۔ اس کا بہت خیال رکھنے کی ضرورت ۔۔ ضرورت ہے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو ہمیشہ ذہن میں رکھتے ہیں کہ اللہ کی خاطر وہی دو جس کو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو۔ یہ نہیں کہ جس طرح بعض لوگ اپنے کسی ضرورت مند بھائی کی مدد کرتے ہیں تو احسان جتا کے کر رہے ہوتے ہیں۔ بلکہ بعض تو ایسی عجیب فطرت کے ہیں کہ تحفے بھی اگر دیتے ہیں تو اپنی استعمال شدہ چیزوں میں سے دیتے ہیں یا پہنے ہوئے کپڑوں کے دیتے ہیں۔ تو ایسے لوگوں کو اپنے بھائیوں، بہنوں کی عزت کا خیال رکھنا چاہیے۔ بہتر ہے کہ اگر توفیق نہیں ہے تو تحفہ نہ دیں یا یہ بتا کر دیں کہ یہ میری استعمال شدہ چیز ہے اگر پسند کرو تو دوں۔ پھر بعض لوگ لکھتے ہیں کہ ہم غریب بچیوں کی شادیوں کے لئے اچھے کپڑے دینا چاہتے ہیں جو ہم نے ایک آدھ دن پہنے ہوئے ہیں۔ اور پھر چھوٹے ہو گئے یا کسی وجہ سے استعمال نہیں کر سکے۔ تو اس کے بارہ میں واضح ہو کہ چاہے ایسی چیزیں ذیلی تنظیموں ، لجنہ وغیرہ کے ذریعہ یا خدام الاحمدیہ کے ذریعہ ہی دی جارہی ہوں یا انفردی طور پر دی جارہی ہوں تو ان ذیلی تنظیموں کو بھی یہی کہا جاتا ہے کہ اگر ایسے لوگ چیزیں دیں تو غریبوں کی عزت کا خیال رکھیں اور اس طرح ، اس شکل میں دیں کہ اگر وہ چیز دینے کے قابل ہے تو دی جائے۔ یہ نہیں کہ ایسی اُترن جو بالکل ہی نا قابل استعمال ہو ، وہ دی جائے۔ داغ لگے ہوں، پسینے کی بو آرہی ہو کپڑوں میں سے۔ تو غریب کی بھی ایک عزت ہے اس کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ اور ایسے کپڑے اگر دئے جائیں تو صاف کروا کر ، دھلا کر ، ٹھیک کروا کر ، ، پھر پھر دیئے جائیں۔ اور جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہماری ذیلی تنظیمیں بھی، لجنہ وغیرہ بھی دیتی ہیں کپڑے تو جن لوگوں کو یہ چیزیں دینی ہوں ان پر یہ واضح کیا جانا چاہیے کہ یہ استعمال شدہ چیزیں ہیں تا کہ جو لے اپنی خوشی سے لے۔ ہر ایک کی عزت نفس ہے، میں نے جیسے پہلے بھی عرض کیا ہے اس کا بہت ا خیال رکھنے کی ضرورت ہے اور بہت خیال رکھنا چاہیے۔“ (خطبه جمعه فرموده 12 ستمبر 2003ء بحوالہ خطبات مسرور جلد 1 صفحہ 310-311)