سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 387 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 387

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 367 حضرت چودھری عبد اللہ خان صاحب کی بیعت صوبہ رض چودھری عبداللہ خان صاحب دا تا زید کا، ان کی بیعت 1902ء کی ہے۔ یہ لکھتے ہیں کہ 1902ء میں یہاں گرمی کے موسم میں دو مولوی آئے۔ ایک فضل کریم صاحب مرحوم قلعہ سنگھ کے اور دوسرے عبد الحئی۔ مؤخر الذکر نے حضرت صاحب کے خلاف ایک کتاب بھی لکھی تھی یہ کفر کی حالت میں ہی مرا ہے۔ مگر مولوی فضل کریم صاحب میرے ساتھ ایمان لائے تھے۔ یہ دونوں مولوی صاحب ایک رات میرے پاس ٹھہرے۔ میں نے حضرت صاحب کے متعلق ان سے دریافت کیا۔ پہلے مولوی فضل کریم صاحب بولے اور کہا کہ وہ کافر ہیں۔ میں نے کہا کہ تحقیقات کے بغیر کافر کہنا ٹھیک نہیں ہے۔ پھر مولوی عبدالحی صاحب بولے اچھا دوکاندار تو ا ضرور ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق کہا کہ وہ دوکاندار تو ضرور ہیں۔ میں نے کہا کہ اگر وہ دوکاندار ہوتے تو وہ چیز پیش کرتے جسے ہر شخص خوشی سے لیتا ہے۔ ایسا مہنگا سودا پیش نہ کرتے جسے کوئی لیتا ہی نہیں ہے بلکہ الٹی مخالفت ہو رہی ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ بھی ہر ایک کو اپنی اپنی دلیل سوجھتی ہے اور بڑی اچھی دلیل ہے یہ۔ تو اس واقعہ کے بعد میرے دل میں بہت تحریک ہوئی اور میں تحقیقات کرتا رہا۔ جنوری یا فروری 1903ء میں مولوی فضل کریم صاحب یہاں تشریف لائے ، میں نے ان کو علیحدگی میں حضرت صاحب کی بابت پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا کہ جس طرح وہابی لوگوں کو لوگ نا پسند کرتے تھے مگر وہ سچے نکلے ۔ ایسے ہی گو آج کل مرزا صاحب کی مخالفت کی جارہی ہے مگر آخر یہ سچے ہی نکلیں گے۔ اس پر میں نے کہا کہ پھر آپ بیعت کیوں نہیں کر لیتے۔ انہوں نے کہا کہ مخالفت بہت ہو گئی ہے۔ میں نے کہا میں زمیندار ہوں، اپنی روزی کما کر کھاتا ہوں اور آپ حکیم ہیں اس لئے آج ہی ہمیں بیعت کا خط لکھنا چاہیے۔ چنانچہ ہم نے بیعت کا خط لکھ دیا۔ جمعہ کا دن تھا میں نے یہاں اعلان کر دیا کہ میں نے حضرت مرزا صاحب کی بیعت کر لی ہے اور مولوی صاحب نے قلعہ میں اعلان کیا اور پھر مخالفت ہوتی رہی۔