سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 388
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 368 حضرت محمد شاہ صاحب کی بیعت کا دلچسپ واقعہ حضرت محمد شاہ صاحب ابن ابن عبد اللہ شاہ صاحب آف لدھیانہ لکھتے ہیں کہ میرا پہلے یہ خیال تھا کہ جو سید ہیں ، ان کو کسی دوسرے کی بیعت کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہمارا مقام اس سے گرتا ہے۔ تو کہتے ہیں کہ کچھ مدت تک اسی خیال میں پختہ رہا۔ لیکن جب بھی کسی مجلس میں حضرت مرزا صاحب کا ذکر ہوتا، اگر تعریفی رنگ میں ہوتا تو دلچسپی سے سنتا اور جس مجلس میں مخالفت ہوتی، اس مجلس میں بیٹھنا ناگوار گزرتا۔ قائل تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام کے ، لیکن جو سید کا ایک ٹائٹل لگا ہوا تھا، اس کی وجہ سے آنا زیادہ بڑھ گئی تھی۔ کہتے ہیں اس مجلس میں نہ بیٹھتا تھا۔ اٹھ کر چلا جاتا۔ آخر ایک روز کسی کے منہ سے بے پیر اور بے مرشد سن کر جو کہ کسی اور کو کہہ رہا تھا خیال آیا کہ بے پیر اور بے مرشد تو ایک گالی ہے اور میں خود بھی بے پیر اور بے مرشد ہوں۔ سید تو ہوں لیکن میرا کوئی پیر نہیں اور مجھے کوئی پیر ماننے کو تیار نہیں۔ کیا سید مستثنیٰ ہیں ؟ خود ہی بعض گدی نشینوں کا خیال آکر کہ بعض بڑے بڑے بزرگ گزرے ہیں اور سید تھے۔ انہوں نے بھی بعض غیر سید بزرگوں کی بیعت کر کے فیض حاصل کیا تھا۔ تو بہر حال کہتے ہیں ہمیں بھی اپنی جگہ فکر رہنے لگا لیکن کم علمی اور جہالت کی وجہ سے کسی سے دریافت نہ کیا۔ لیکن ایک مقصد دل میں رکھ کر بعض اچھے آدمیوں سے اپنے مقصد کے پورا ہو جانے کے واسطے کچھ ورد پوچھنے اور کرنے شروع کر دیئے۔ اور مقصد یہی تھا کہ مرشد کامل اور سید مل جاوے۔ چنانچہ کافی عرصے تک چلوں اور دردوں کی دھن لگی رہی اور کرتا رہا۔ قبرستانوں میں ، دریاؤں میں ، کنوؤں پر اور پہاڑوں میں، بزرگوں کے مزاروں پر، غرضیکہ راتوں کو بھی خفیہ جگہوں پر جا جا کر چالیس چالیس دن چلے گئے۔ یعنی کہ ایک شوق تھا، لگن تھی کہ بہر حال کسی پیرومر شد کو میں نے تلاش کرنا ہے۔ کچھ نہ بنا۔ آخر ایک روز مایوس ہو کر لیٹ گیا اور سو گیا۔ نیند میں ایک بزرگ کو دیکھا، اس نے تسلی دی کہ بیٹا تمہیں جو مر شد ملے گا وہ سب کا مرشد ہو گا۔ اس کے ہوتے ہوئے سب پیر اور مر شدمات ہو جائیں گے۔ یہ نظارہ دیکھ کر دل کو تسلی ہو گئی اور یقین ہو گیا کہ مرشد کامل انشاء اللہ مل جاوے گا۔ آخر شروع 1905ء میں ایک رات میں نے دیکھا کہ ایک وسیع میدان ہے جو کہ