سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 386 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 386

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 366 ہو گیا۔ ہمیں اس اسے سے بڑی نفرت ہو گئی۔ وہ ہمیں سمجھاتا رہا۔ قلعہ صوبہ سنگھ میں مولوی فضل کریم صاحب بھی سمجھانے کے لئے آتے مگر ہمیں سمجھ نہیں آتی تھی۔ پھر ایک مناظرہ ہوا۔ احمدیوں کی طرف سے رحیم بخش عرضی نویس پتھو کے کا تھا اور غیر احمدیوں کی طرف سے مولوی شاہ محمد آف قلعہ میاں سنگھ تھا۔ غیر احمدی مولوی صرف رفع الی اللہ کو ہی پیش کرتا تھا مگر احمدی قرآن کریم کی کئی آیتیں پڑھ کر استدلال کرتا تھا۔ اس وقت ہمیں سمجھ آئی کہ یہ لوگ بھی مسلمان ہیں۔ اس سے پہلے ہم احمدیوں کو عیسائیوں کی طرح سمجھتے تھے۔ وہاں ہی میں نے احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھی۔ راستہ میں سوچا۔ پھر بھائی کے ساتھ قادیان گئے۔ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مولویوں کا جھوٹا پروپیگینڈا جیسا کہ میں نے کہا ہمیشہ ، ہر جیسا وقت چلتا رہتا ہے۔ اب دیکھیں کہ انہوں نے تحقیق کا کیا ذریعہ ڈھونڈا۔ جستجو ہو ، نیک فطرت ہو تو آدمی ہر ذریعہ تلاش کرتا ہے۔ انہوں نے یہ کہا۔ کہتے ہیں کہ میں تحقیق کرنے کے لئے پہلے اس شخص کے پاس گیا جو چوڑھوں کا بادشاہ کہلاتا ہے یعنی جو کام کرنے والے ہیں، خاکروب ہیں۔ وہ خود تو موجود نہ تھا اس کا بالکہ ملا جو بوڑھا ہو چکا تھا یعنی اس کا نائب ۔ اس سے میں نے پوچھا کہ مرزا صاحب کی ابتدائی زندگی کے بارہ میں آپ کو کوئی واقفیت ہے ؟ اس نے کہا پہلے تو نور علی نور تھا بڑی عبادت کیا کرتا تھا مگر اب اسے غلطی لگ گئی ہے۔ پھر ایک اور فقیر سے پوچھا کہ کیا آپ احمدی ہیں؟ کہنے لگا نہیں۔ میں نے کہا کیوں؟ کہنے لگا مجھ پر مرزا صاحب کے رشتہ داروں نے دعویٰ کیا تھا کہ جہاں یہ رہتا ہے یہ مکان اس کا نہیں ہے۔ میں نے مرزا صاحب کو ہی صفائی میں طلب کر لیا۔ مرزا صاحب نے عدالت میں کہہ دیا کہ یہ غریب فقیر ہے، مکان اس کے پاس ہی رہے تو کیا حرج ہے؟۔ اس پر مکان مجھے مل گیا۔ مرزا صاحب کے رشتہ دار ان پر بڑے خفا ہوئے۔ کہتے ہیں اس پر میں نے اس فقیر سے کہا کہ پھر بھی تجھ پر مرزا صاحب کی سچائی نہیں کھلتی ؟ کہنے لگا بات یہ ہے کہ جو شرطیں لگاتا ہے اس پر چلنا مشکل ہے شرائط بیعت بڑی مشکل ہیں۔ کہتے ہیں کہ ان دونوں فقیروں کی باتوں سے میں نے اندازہ لگایا کہ جو شخص پہلے نور علی نور تھا اب وہ جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ اس پر میں نے بیعت کر لی اور پھر کئی دفعہ حضور کی زندگی میں قادیان گیا اور سیالکوٹ لیکچر کے موقع پر بھی گیا۔