سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 385 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 385

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 365 حضور ہی کی طرف میری توجہ تھی۔ جمعہ کے بعد حضور کے لئے کرسی بچھائی گئی، حضور تشریف فرما ہوئے اور سورۃ فاتحہ کی تفسیر کی ۔ جس وقت حضور سورۃ فاتحہ پڑھ رہے تھے، میں نے دل میں خیال کیا کہ یہ بالکل بھولی بھالی شکل کا انسان ہے، یہ تقریریں ان کی طرف منسوب کی جاتی ہیں، ان کی نہیں ہر گز ہو سکتیں۔ مگر جب حضور نے تقریر فرمائی تو میر اشک رفع ہو گیا۔ کہتے ہیں کہ اس تقریر میں حضرت نے فرمایا کہ لوگ خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہیں کہ وہ رب العالمین ہے ، مالک یوم الدین ہے اور چاہتے ہیں کہ گمراہی کے ازالہ کا اللہ کوئی علاج کرے۔ مگر جب اللہ تعالیٰ نے علاج کا سامان کیا ہے تو لوگ منکر ہو رہے ہیں۔ کیا خدا تعالیٰ ظالم ہے کہ ایک تو امت گمراہ ہو رہی ہو اور دوسرے ان میں ایک دجال کو بھیج کر انہیں اور گمراہ کرے ؟ یہ سوچتے نہیں۔ اس تقریر کا لوگوں پر اس قدر اثر ہوا ا کہ بے شمار مخلوق نے بیعت کی۔ مجھے چوہدری اللہ دتہ صاحب دتہ صاحب نے کہا کہ ساپر بیعت کرو کیا دیکھتے ہو ؟ ان کی تحریک سے میں نے دستی بیعت کر لی۔ اس سے پہلے میں حضرت اقدس کی ہر مجمع میں تائید کرتا تھا مگر ابھی تک بیعت نہیں کی تھی۔ ہاں ایک بات یاد آئی جب حضرت صاحب فٹن پر سوار ہوئے تو ایک شخص جو میرے پاس کھڑا تھا اس نے کہا یہ منہ جھوٹے کا نہیں۔ میرے منہ سے حضرت صاحب کو دیکھ کر بے اختیار یہ کلمہ نکلا کہ اس نے کبھی آسمان کو نہیں دیکھا ہو گا۔ حضرت صاحب کی نظر اس وقت بھی نیچی تھی۔ نظریں ہمیشہ نیچی رکھتے تھے انہوں نے کہا کہ اس کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اتنی نظریں نیچی رکھتے ہیں، کبھی آسمان نہیں دیکھا ہو گا۔ ایک دفعہ حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کی گئی کہ حضور ! مکان کے نیچے خلقت بے شمار جمع ہے۔ حضور کو دیکھنا چاہتی ہے۔ ہے۔ حضور نے کھڑکی میں سے چہرہ مبارک باہر نکالا۔ مخلوق اس قدر ٹوٹ پڑی کہ قریب تھا کہ کئی لوگ دب کر مر جائیں۔ اس پر حضور کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ حضور چہرہ مبارک اندر کر لیں ورنہ کوئی حادثہ ہو جائے گا۔ چنانچہ حضور نے چہرہ اندر کر لیا۔ چوہدری حاکم دین صاحب میانوالی خانوالی کی 1902ء کی بیعت ہے۔ روایت کرتے ہیں کہ میر ابھائی احمدی تھا اور مولوی تھا۔ ہم حیران ہوتے تھے کہ اس کو کیا ہو گیا، پہلے موحد بنا اب احمدی