سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 384
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 364 سیالکوٹ میں حضرت مسیح موعود کی آمد اور ایمان افروز واقعات حضرت سید نذیر حسین شاہ صاحب آف گھٹیالیاں نے 1904ء میں بیعت کی تھی۔ یہ رض کہتے ہیں کہ جب حضرت اقدس سیالکوٹ تشریف لے گئے تو گھٹیالیاں میں چونکہ احمدیت کے متعلق ایک رو پیدا ہو چکی تھی ، اس لئے یہاں کے سترہ اٹھارہ آدمی گئے تھے اور قریباً سب نے بیعت کر لی تھی۔ بیعت کا واقعہ یوں ہے کہ جس روز حضرت اقدس نے سیالکوٹ جانا تھا ہم اس سے ایک روز پہلے گئے تھے۔ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب پانچ سات روز پہلے گئے ہوئے تھے۔ اور حضرت مولوی نور الدین صاحب غالباً ایک دن پہلے۔ دن پہلے گئے تھے کیونکہ میں نے ان کو مسجد میں دیکھا تھا۔ ہم لوگ چوہدری محمد امین صاحب کے ڈیرہ پر اترے ہوئے تھے اور وہ سخت دہر یہ تھا۔ مگر چونکہ ہمارے اس کے ساتھ تعلقات تھے ، ہم اس کے پاس ٹھہرا کرتے تھے۔ وہ حضرت خلیفہ اول کے پاس اپنے اعتراضات لے کر گئے۔ جب واپس آئے تو چوہدری شاہ دین صاحب نے انہیں پوچھا کہ بتاؤ مولوی نور الدین صاحب سے مل آئے ؟ ( یہ دیکھیں کس طرح تبلیغ کیا کرتے تھے انہوں نے کہا کہ مذہبی مناظرے کی شطرنج میں دوسرا چالا یہ شخص چلنے ہی نہیں دیتا۔ (حضرت خلیفہ اول کے بارہ میں کہا کہ جب میں کوئی بات کرتا ہوں، یہ دوسری چال مجھے چلنے ہی نہیں دیتا۔ بالکل بند کر دیتا ہے۔) نیز کہا کہ آج مجھے خدا پر ایمان ہو گیا ہے۔ حضرت خلیفہ اول کی وجہ سے خدا پر ایمان ہو گیا تھا۔ چونکہ اسی روز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد آمد تھی۔ اس لئے عصر کے وقت ہی تمام شہر کے معززین اور مضافات کے لوگ جوق در جوق سٹیشن پر جانے لگے۔ ہم بھی پہنچ گئے۔ حضور کی گاڑی شام کے وقت سٹیشن پر پہنچی اور جس ڈبے میں حضور تھے اسے کاٹ کر راجیکی سرائے کے پاس لے جایا گیا۔ حضور ایک فٹن پر سوار ہوئے۔ دورویہ قطاروں میں الگ کھڑے تھے اور پولیس گشت کر رہی تھی۔ حضرت صاحب کے ساتھ ایک شخص لیمپ لے کر کھڑا تھا اور کہتا تھا کہ یہ مرزا صاحب ہیں۔ بعد میں وہ شخص مجھے ملا اور چونکہ احمدی ہونے کی وجہ سے واقفیت ہو گئی ، وہ حکیم عطاء محمد صاحب تھے۔ کہتے ہیں کہ وہاں مولوی عبد الکریم صاحب نے جمعہ کی نماز پڑھائی۔ میں بالکل حضرت صاحب کے پاس کھڑا تھا اور