سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 383 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 383

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 363 ہے؟ میں نے کہا مولوی صاحب، ذرا ہوش سے بولیں۔ خدا پر حملہ کر رہے ہیں۔ کیونکہ وہ تو فرماتا ہے کہ میرے قرآن کی کوئی مثل نہیں لا سکتا اور یہ کہہ رہے ہیں کہ قرآن مرزا صاحب نے بنادیا ہے۔ کہنے لگے کہاں لکھا ہے ؟ میں نے ساتھ ساتویں پارے کی آیت پڑھی۔ کہتے ہیں مگر ہم تمہیں ایک ہی گر بتاتے ہیں کہ ان بے ایمانوں کے ساتھ بات نہ کی جائے یعنی احمدیوں کے ساتھ بات نہ کی جائے۔ بلکہ نظر کے ساتھ نظر ملائی جائے تو بھی اس کا اثر ہو جاتا ہے۔ میں نے کہا مولوی صاحب ! سچائی کا اثر ویسے ہی ہوا کر تا ہے۔ مولوی صاحب واپس ہو کر چلے گئے۔ میر ابھائی جو مخالف تھا وہ نیروبی میں چلا گیا۔ میں نے بیعت کر لی۔ والد صاحب اور بیوی کو بھی سمجھا لیا۔ گویا سب کو سمجھا لیا۔ بھائی کو نیروبی میں جا کر سمجھ آئی۔ وہ دس ماہ کے بعد واپس چلے آئے اور آتے ہی بیعت کر لی۔ اب خدا کے فضل سے ہمارے محلے میں سو ڈیرھ سو افراد احمدی ہیں۔ بھائی صاحب کی واپسی پر والد صاحب، میر حامد شاہ صاحب اور بھائی صاحب قادیان گئے۔ وہ جب واپس آئے تو ہم چار آدمی تبلیغ کرتے کرتے پیدل چل پڑے اور دستی بیعت کی۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کئی سعید روحیں جو ہیں جو خوف کی وجہ سے چپ ہیں۔ آج بھی اگر یہ پاکستان میں اس قانون کو ہٹا دیں اور احمدیوں کو آزادی سے تبلیغ کرنے دیں تو انشاء اللہ احمد بیت میں داخل ہو جائیں گی۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میری بیوی ، بڑا بھائی اس کی بیوی قادیان گئے۔ ہم نے ایک مکان کرائے پر لیا ہوا تھا رات کو ہم اس مکان میں رہتے تھے۔ دن کو ہماری مستورات اور بچے حضرت صاحب کے مکان میں رہتے تھے اور ہم مہمان خانہ میں۔ میرے بھائی کی لڑکی کی آنکھیں بچپن سے ہی بیمار رہتی تھیں۔ چونکہ وہ لڑکی حضرت صاحب کے پاس رہتی تھی حضرت صاحب نے اپنے ایک خادم کے ساتھ اس لڑکی کو بھیجا اور فرمایا کہ مولوی صاحب کو جا کر کہو کہ کچھ اس لڑکی کی آنکھوں میں دوائی ڈال دیں (حضرت مولانا حکیم نور الدین صاحب خلیفہ اول) چنانچہ مولوی صاحب نے کچھ چیز ڈالی پھر عمر بھر اس لڑکی کی نظر خراب نہیں ہوئی۔