سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 382 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 382

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 362 میں نے یہ بات سنتے ہی کہا کہ مولوی صاحب ! میں نے مان لیا کہ مسیح مر گیا ہے۔ اگر مسیح زندہ ہیں تو توحید میں بڑا فرق آتا ہے۔ آپ یہ مت خیال کریں کہ احمدی ہوں، میں ابھی تک احمدی نہیں مگر مرزا صاحب کی بات ضرور سچی ہے ، میں کبھی گوارا نہیں کر سکتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کی جائے۔ مولوی صاحب نے میرے منہ کے آگے ہاتھ رکھ دیا۔ میں نے کہا مولوی صاحب ! کیوں روکتے ہو ؟ مولوی صاح صاحب نے کہا کہ اگر آپ کا عقیدہ ہو گیا ہے کہ مسیح مر گیا تو اتنا جوش و خروش دکھانے کی کیا ضرورت ہے؟ میں نے کہا مولوی صاحب! مسجد سے نکلتے ہی منادی کرتا چلا جاؤں گا کہ اگر حضرت عیسیٰ آسمان پر ہیں تو محمد رسول اللہ کی ہتک ہے۔ میں نے جاتے ہی اپنے والد صاحب کو سمجھایا اور میرا بڑا بھائی غلام حسین، جو عارف والے کا امیر جماعت ہے وہ دونوں جل کر آگ بگولہ ہو گئے اور میرا نام دجال اور ملعون وغیرہ رکھا۔ مجھے یہ خیال آیا کہ کل جمعہ پر مولویوں وغیرہ کا حملہ ہو گا۔ میں نے رات کے وقت اس احمدی کو ، جس کو ہم نے مسجد سے روکا تھا ایک نوکر کے ذریعہ بلایا۔ میں نے اسے پوچھا کہ کیا مرزا صاحب نے وفات مسیح پر کوئی دلیل بھی دی ہے یا یوں ہی کہہ دیا ہے۔ اس نے کہا نہیں آیات پیش کی ہیں۔ میں نے حیران ہو کر کہا کہ ہم دن رات قرآن پڑھتے ہیں اور ہمیں معلوم نہیں کہ یہ کیا بات ہے۔ ایک ہی آیت ہمیں بتا دو۔ اس نے ساتویں پارے کی آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي بتادی۔ میں نے کہا اب میری تسلی ہو گئی ہے۔ اب کوئی مولوی میرا مقابلہ نہ کر سکے گا۔ فجر کے وقت مولوی غلام حسین صاحب اور مولوی فیض دین صاحب اور دو تین آدمی میرے بھائی کے ہمراہ آئے۔ میں مسجد کے دروازے میں کھڑا تھا کہ یہ جا پہنچے۔ مولوی غلام حسین نے کہا کہ مسیح کے آپ کیوں دشمن ہو گئے ہیں۔ میں نے کہا کہ مولوی صاحب ! میں نے کیا دشمنی کی ؟ وہ کہتے کہ آپ کا بھائی کہتا ہے کہ یہ مسیح کی موت کا قائل ہو گیا ہے۔ میں نے کہا مولوی صاحب کیا کریں وہ تو خود اپنی موت کا اقرار کر رہا ہے اور آپ کی مثال مدعی سست گواہ چست کی ہے۔ مولوی صاحب نے کہا کہاں لکھا ہے ؟ میں نے کہا قرآن میں۔ وہ کہتے ہیں مگر کون سا قرآن ؟ جو مرزا صاحب نے بنا دیا