سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 381 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 381

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 361 قادیان کے ارد گرد سیر کرائی۔ جب ہم مسجد نور کے پاس پہنچے جو کہ ابھی بنی ہوئی نہیں تھی، غالباً بنیادیں رکھی گئی تھیں۔ فرمایا کہ میاں ہم پہلے پہلے جب حضرت اقدس کے ساتھ آیا کرتے تھے تو بالکل جنگل تھا۔ ہم حضور کے لئے کپڑا بچھا دیا کرتے تھے۔ حضور وہاں بیٹھ جاتے تھے اور فرمایا کرتے تھے اس وقت آپ لوگ یہاں کائی اور سر کنڈا دیکھتے ہیں، ایک وقت یہاں خوب رونق ہو گی۔ میر مہر غلام حسین صاحب میر مہر غلام حسین صاحب روایت کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ہم دونوں بھائی بازار میں جارہے تھے۔ تمام بستی ہندوؤں کی تھی۔ ایک بوڑھے شخص کو ہم نے قرآن پڑھتے سنا۔ جب ہم واپس آئے تو پھر بھی وہ پڑھ رہا تھا۔ میں نے دل میں خیال کیا کہ یہ شخص اپکا مسلمان اور بے دھڑک آدمی ہے جو ہندوؤں کی بستی میں قرآن پڑھ رہا ہے۔ کہتے ہیں کہ بیعت کے بعد جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر دیکھی تو پتہ لگا کہ یہ وہی شخص تھا جس کو میں نے خواب میں قرآن پڑھتے دیکھا تھا۔ حضرت مہر غلام حسین صاحب ہی روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص بنام رحیم بخش صاحب قوم درزی ان کی مسجد میں آیا کرتا تھا۔ آکر کہنے لگا کہ مولوی صاحب ! آج طبیعت بہت پریشان ہے۔ میں نے اس کی وجہ پوچھی تو بیان کرنے لگا کہ حامد شاہ ایک فرشتہ اور باخدا انسان ہے اور مسلمان ان کی تعریف کرتے ہیں۔ آج ان سے بہت غلطی ہوئی ہے۔ آج انہوں نے اپنے ماموں عمر شاہ کو کہا ہے کہ ماموں جان آپ کا حضرت ابن مریم کے بارہ میں کیا خیال ہے ؟ انہوں نے بیان کیا کہ بیٹا! میرا تو یہی مذہب ہے کہ وہ زندہ آسمان پر ہیں کسی زمانے میں امت محمد یہ کی اصلاح کے لئے آئیں گے۔ شاہ صاحب نے کہا کہ ماموں صاحب! آج سے آپ میرے امام نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ یہ عقیدہ مشرکانہ ہے کہ ایک انسان کو حی و قیوم اور لازوال مانا جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ سید و مولی سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عقیدہ سے بڑی ہتک ہوتی ہے کہ وہ تو زمین میں مدفون ہوں اور حضرت عیسیٰ آسمان پر اٹھائے جائیں۔ عمر شاہ نے اس پر کہا کہ اچھا بیٹا، آپ آگے کھڑے ہوا کریں اور میں پیچھے پڑھا کروں گا۔