سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 380 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 380

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 360 ہے۔ حضور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ بہر حال یہ تو مخالفین کا شیوہ ہے اور کوئی دلیل ہاتھ نہیں آتی تو اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ پھر ایک روایت ہے حضرت حکیم عبد الرحمن صاحب ولد حضرت حکیم اللہ دتہ صاحب گوجرانوالہ کی، جنہوں نے 1904ء میں بیعت کی تھی ۔ کہتے ہیں کہ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اپنے والد صاحب کو احمدی پایا ہے۔ میرے والد صاحب تین سو تیرہ صحابہ کی فہرست میں شامل ہیں۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے خواب میں دو جنگلے دیکھے۔ لوگوں سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ آج قیامت کا دن ہے اور تمام مخلوقات اکٹھی ہو رہی ہیں۔ یہ سن کر میں بھی جنگلے کی طرف گیا۔ دروازے میں داخل ہوا تو بعض لوگوں نے کہا کہ پہلے بائیں طرف جاؤ۔ جو بھی ادھر سے ہو کر آئے گا اسے دائیں طرف جانے کی اجازت مل سکتی ہے۔ میں اسی طرف گیا تو دیکھا کہ حضرت مرزا صاحب کا دربار لگا ہوا ہے اور بے شمار مخلوق پاس موجود ہے۔ میں نے ملاقات کی، ملاقات کے بعد مجھے اجازت دی گئی کہ اب آپ دائیں طرف جاسکتے ہیں۔ میں بڑا خوش ہوا اور پھر نیند سے بیدار ہو گیا۔ آسمان پر تارے ٹوٹنا حضرت مسیح موعود کی آمد کی علامت ہے بیعت کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ یہاں ایک مولوی علاؤ الدین صاحب ہوا کرتے تھے۔ ان کی یہاں قریب ہی ایک مسجد بھی ہے۔ میرے والد صاحب ان کے پاس پڑھا کرتے تھے۔ ایک دن عشاء کے وقت وضو کرتے کرتے میرے والد صاحب نے مولوی صاحب سے پوچھا کہ مولوی صاحب آج کل آسمان سے تارے بہت ٹوٹتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے۔ مولوی صاحب نے کہا کہ امام مہدی آنے والا ہے۔ آسمان پر اس کی آمد کی خوشیاں منائی جارہی ہیں۔ والد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ چند دن بعد میں نے حضرت اقدس کا ذکر سنا اور قادیان جا کر بیعت کر لی۔ واپس آکر مولوی صاحب کو بھی کہا کہ میں نے تو بیعت کر لی ہے، آپ کا کیا خیال ہے ؟ مگر وہ خاموش ہو گئے۔ تھوڑی دیر بعد آہستہ سے بولے کہ میاں بات تو سچی ہے مگر ہم دنیا دار جو ہوئے۔ کہتے ہیں کہ میں تقریباً دس سال کا تھا کہ میرے والد صاحب مجھے قادیان لے گئے اور رض