سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 379 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 379

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 359 رسول نے اس کے ہاتھ سے یہ کتاب لے کر میرے ہاتھ میں دے دی اور کہا کہ تم جو کتاب مانگتے تھے یہ کتاب آپ کے لئے ہی میں لایا ہوں یہ آپ لے لیں۔ میں نے کتاب کو دیکھ کر کہا کہ کتاب رات خواب میں مجھے مل چکی ہے۔ اس پر میں نے ازالہ اوہام کے دونوں حصوں کو غور سے پڑھا اور اپنے دل سے سوال کیا کہ کیا اب بھی تمہیں کوئی شک و شبہ باقی ہے ؟ میرے دل نے جواب دیا کہ اب کوئی شک و شبہ باقی نہیں اس لئے میں نے بیعت کا خط لکھ دیا۔ حضور ایدہ اللہ نے فرمایا: تو یہ لوگ تھے جن میں سعادت تھی اور اللہ تعالیٰ سے ہدایت بھی مانگتے تھے۔ اور پھر اللہ تعالیٰ ان کی رہنمائی بھی فرماتا تھا اور یہ نظارے ہمیں آج بھی بہت سی جگہوں پر نظر آتے ہیں۔ پھر یہی روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس بیٹھے تھے تو میری موجودگی میں وہاں ایک عیسائی لڑکا آگیا۔ اس نے ایک کاغذ پر کچھ اعتراضات لکھے ہوئے تھے اور دل میں یہ بات رکھی ہوئی تھی کہ اگر حضرت صاحب نے ان کے اعتراض کا بغیر دیکھنے کے جواب دے دیا تو میں ان کو سچا سمجھوں گا۔ چنانچہ جب حضرت اقدس سیر کو تشریف لے گئے، میں بھی ساتھ تھا۔ دوران سفر حضرت اقدس نے ایک تقریر کی جو بالکل اس کے جوابات پر مشتمل تھی۔ جب حضور واپس تشریف لائے تو اس لڑکے نے مسجد اقصیٰ میں میری موجودگی میں بیان کیا کہ واقعی میرے سوالات کے جوابات حضور کی تقریر میں آگئے ہیں۔ اس شخص کا چہرہ تو ایسا خوبصورت ہے کہ ہر وقت اس پر نور برستارہتا ہے پھر ایک روایت یہ کرتے ہیں کہ اس زمانہ میں یہ بات عام مشہور تھی کہ حضرت اقدس کو نعوذ باللہ کوڑھ کی بیماری ہے اور اب تک مخالفین احمدیت اس قسم کے بھی بیہودہ اعتراضات کرتے چلے جاتے ہیں۔ چنانچہ ایک دفعہ میں قادیان سے واپس گوجرانوالہ آیا ہی تھا کہ ایک شخص امام الدین نامی درزی جسے لوگ اس کے بُرے افعال کی وجہ سے پھٹکا کہا کرتے تھے ، وہ دوڑتے دوڑتے میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ جس کا تو مرید ہے ، وہ تو کوڑھا ہے۔ اس کے ہاتھ کی انگلیاں گل چکی ہیں اور وہ ہر وقت برقعہ پہنے رکھتا ہے۔ میں نے کہا میں ابھی قادیان سے آرہا ہوں، اس شخص کا چہرہ تو ایسا خوبصورت ہے کہ ہر وقت اس پر نور برستارہتا ہے، تم کو یہ کس نے بات بتائی