سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 378
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 358 بعض دفعہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اعتراض اور وسوسے دل میں پیدا ہو جاتے ہیں لیکن جن کو خدا تعالیٰ بچانا چاہتا ہے ان کو فوراً دور کرنے کے انتظام بھی فرمادیتا ہے۔ اب ان کے والد صاحب کو یہ شعر یاد تھا فوراً انہوں نے بیان کر دیا۔ سو یہ سوچنا کہ اس زمانہ کے لوگ کم علم تھے ، درست نہیں۔ بڑی تحقیق کے بعد وہ لوگ بیعت میں شامل ہوتے تھے۔ یا خوابوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ان کی تسلی کراتا تھا تو وہ لوگ بیعت میں شامل ہوتے تھے۔ حضرت میاں میراں بخش صاحب ٹیلر ماسٹر پھر حضرت میاں میراں بخش صاحب ولد میاں شرف الدین صاحب ٹیلر ماسٹر تھے یہ روایت کرتے ہیں کہ میں جب دوکان سے اپنے گھر کی طرف جاتا تھا تو راستے میں اپنے بھائی غلام رسول سے ملا کر تا تھا۔ ان کے ساتھ سلسلے کی باتیں ہوتی رہتی تھیں۔ میں چونکہ مخالف تھا اس لئے ان کو جھوٹا کہا کرتا تھا لیکن جب گھر آکر سوچتا تو نفس کہتا کہ کورا ان پڑھ ہے۔ ( بالکل ان پڑھ ہے) مگر اس کی باتیں لا جواب ہیں۔ ایک دفعہ میرے بھائی نے مجھے کچھ ٹریکٹ دیئے، کچھ لٹریچر دیا، پمفلٹ دیئے جو میں نے پڑھے۔ ان کا مجھ پر گہرا اثر ہوا اس پر میں نے خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا شروع کر دی۔ ایک رات خواب میں دیکھا کہ میں اپنی چار پائی سے اٹھ کر پیشاب کرنے گیا ہوں مگر دیکھتا ہوں کہ باری کھلی ہے (یعنی کھڑ کی کھلی ہے۔) میں حیران ہوا کہ آج کھڑ کی کیوں کھلی ہے۔ میں جب باری کی طرف گیا تو دیکھا کہ ایک بزرگ ہاتھ میں کتاب لئے پڑھ رہے تھے۔ میں نے سوال کیا کہ یہ کون سی کتاب ہے جو آپ پڑھ رہے ہیں انہوں نے جواب دیا یہ کتاب مرزا صاحب کی ہے اور ہم تمہارے لئے ہی لائے ہیں۔ جب انہوں نے کتاب دی تو میں نے کہا کہ یہ تو چھوٹی سختی کی کتاب ہے۔ میں نے ان کے ٹریکٹ دیکھے ہیں وہ بڑی سختی کے ہوتے ہیں۔ وہ بزرگ بولے کہ مرزا صاحب نے یہ کتاب چھوٹی سختی کی چھپوائی تھی اس پر میری آنکھ کھل گئی۔ کہتے ہیں کہ میں نے خیال کیا کہ شاید میں دعا کر کے ان خیالات میں سویا تھا یہ انہی کا اثر ہے۔ مگر جب میں ظہر کی نماز پڑھنے کے لئے اپنے گھر کی طرف آیا تو غلام رسول کی دُکان پر ایک شخص بیٹھا ہوا ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔ میں نے کہا یہ کون سی کتاب ہے جو پڑھ رہے ہو۔ میاں غلام