سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 377
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 357 صحابہ حضرت مسیح موعود کا دلچسپ اور دلنشین انداز میں تذکرہ تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس وقت میں صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کچھ روایات پیش کروں گا جو رجسٹر روایات صحابہ میں سے میں نے لی ہیں جن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے مقام پر بھی روشنی پڑتی ہے اور ان صحابہ کی پاک فطرت اور دین کی حقیقت اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مقام جاننے کی جستجو کا بھی پتہ چلتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے کس طرح ان کی رہنمائی فرمائی اس میں یہ باتیں بھی آئیں گی۔ حضرت میاں محمد ابراہیم صاحب رض حضرت میاں محمد ابراہیم صاحب جو میاں محمد بخش صاحب گوجر انوالہ کے بیٹے تھے اور جو پیدائشی احمدی تھے، یہ کہتے ہیں کہ لاہور میں حضرت اقدس کا ایک لیکچر ہوا۔ میں بمع والد صاحب کے گیا۔ حضور ایک مکان کے برآمدے میں تقریر کر رہے تھے۔ آگے ایک بڑا صحن تھا جو بالکل بھرا ہوا تھا۔ باہر مخالفین از حد شور مچا رہے تھے اور اندر اینٹیں اور روڑے پھینک رہے تھے۔ لوگوں کو اندر آنے سے روکتے تھے۔ میں اور والد صاحب تقریر سننے کے لئے بیٹھ گئے۔ دوران تقریر میں میں نے دیکھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی ران پر ہاتھ مارتے تھے اور بعض اوقات ٹھہر ٹھہر کر بولتے تھے۔ میں نے اپنے والد صاحب کو کہا کہ حضرت اقدس اس طرح تقریر کر رہے ہیں جیسے پہلوان کشتی لڑتے ہیں۔ یہ انبیاء کا کام نہیں۔ ( یہ اعتراض ان کے دل میں پیدا ہوا) تو والد صاحب نے اس وقت حافظ محمد لکھو کے والے کا یہ شعر پڑھا۔ پنجابی کا شعر ہے بولن لگے اڑ کر بولے ، پٹاں تے ہتھ مارے۔ (یعنی جب بولتا ہے تو زبر دست بولتا ہے اور رانوں پر ہاتھ مار کر بولتا ہے۔) تو ان کے والد صاحب کہنے لگے تم جس بات پر اعتراض کر رہے ہو ، یہ تو حضور کی صداقت کا نشان ہے۔ اس پر میں خاموش ہو گیا اور گھر میں آکر ” احوال الآخرة“ میں سے وہ شعر شعر دیکھا۔