سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 376
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 356 اسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن : 61)۔ عام لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ دعا سے مراد دنیا کی دُعا ہے۔ وہ دنیا کے کیڑے ہیں۔ اس لئے اس سے پرے نہیں جاسکتے۔ اصل دُعا دین ہی کی دُعا ہے۔“ اور ایک دوسری جگہ یہ بھی آتا ہے کہ اور اصل دین دُعا میں ہے۔ فرمایا: ”لیکن یہ مت سمجھو کہ ہم گناہگار ہیں یہ دُعا کیا ہو گی اور ہماری تبدیلی کیسے ہو سکے گی۔ یہ غلطی ہے۔“ اس بارے میں ایک جگہ یہ بھی فرمایا ہوا ہے کہ گناہ اس میل کی طرح ہے جو کپڑوں پر ہوتی ہے اور دھونے سے دور کی جاتی ہے۔ پس گناہ کوئی مستقل چیز نہیں ہے۔ گناہ کو دھویا جا سکتا ہے ، اگر ارادہ ہو اور دعاؤں کی طرف توجہ ہو تو صاف کیا جاسکتا ہے۔ فرمایا: ” بعض وقت انسان خطاؤں کے ساتھ ہی ان پر غالب آسکتا ہے۔ “ گناہوں پر انسان غالب آجاتا ہے اس لئے کہ اصل فطرت میں پاکیزگی ہے۔ ” دیکھو پانی خواہ کیسا ہی گرم ہو لیکن جب وہ آگ پر ڈالا جاتا ہے تو وہ بہر حال آگ کو بجھا دیتا ہے اس لئے کہ فطرتاً برودت اس میں ہے۔ ٹھنڈے کرنے کی جو اس کی خصوصیت ہے وہ اس پانی کی ہے۔ ”ٹھیک اسی طرح پر انسان کی فطرت میں پاکیزگی ہے، ہر ایک میں یہ مادہ موجود ہے۔ وہ پاکیزگی کہیں نہیں گئی۔ اسی طرح تمہاری طبیعتوں میں خواہ کیسے ہی جذبات ہوں ، رو کر دعا کرو گے تو اللہ تعالیٰ دور کر دے گا“۔ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 132-133 مطبوعہ ربوہ ) اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی سربلندی کے لئے دعائیں کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اپنی اصلاح کی طرف توجہ دیتے ہوئے اپنے لئے اور اپنی نسلوں کے لئے دعا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اسلام کے پیغام کو ہم جرات کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ اس کے نیک نتائج بھی پیدا فرمائے۔“ ( خطبه جمعه فرموده یکم اکتوبر 2010ء بحوالہ خطبات مسرور جلد 8 صفحہ 505-515)