سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 369 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 369

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 349 کا دعویٰ ہو تو تم بھی ایمان لانے والے گروہ میں شامل ہو جانا، انکار کرنے والے گروہ میں شامل نہ ہونا۔ پس اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ آج ہمیں اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے والے گروہ میں شامل فرمایا ہے۔ تو پھر اب ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عاشق صادق کی مکمل پیروی کریں تاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کالا یا ہوا دین دنیا میں پھیلا سکیں، اپنے ایمانوں کو مضبوط کریں اور اپنی نسلوں میں وہ ایمان پیدا کریں اور کرنے کی کوشش کریں جن سے آگے پھر انصار اللہ کی جاگ لگتی چلی جائے، ایک کے بعد دوسرا مدد گار پیدا ہو تا چلا جائے۔ اور اس کی جاگ تبھی لگ سکتی ہے جب ہم اپنے عہد بیعت کو سامنے رکھیں اور اس کی ہر شق کے نمونے اپنی اولادوں کے سامنے پیش کرنے والے بن جائیں۔ تبھی یہ نَحْنُ أَنْصَارُ الله کا نعرہ جاری رہے گا۔ حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں کے کچھ عرصہ یا نسلوں بعد تو اللہ تعالیٰ پر ایمان اور تعلیم کی پیروی ختم ہو گئی تھی، جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں بھی کہا تھا۔ اس کا ذکر ہو چکا ہے کہ بادشاہوں کے عیسائی ہونے کے ساتھ ہی وہ آزادی تو مل گئی لیکن کچھ عرصے بعد موحدین کی جو تعداد تھی وہ کم ہوتے ہوتے تقریباً ختم ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ جو واحد و یگانہ ہے اس کی ذات تو پیچھے چلی گئی اور اللہ تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ اور اللہ تعالیٰ کا رسول ظالمانہ طور پر خدا تعالیٰ کے مقابلے پر لا کر کھڑا کر دیا گیا۔ لیکن مسیح محمدی کے ماننے والوں نے توحید کے قیام اور اس کو اپنی نسلوں میں جاری رکھنے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہے اور وہ روحانی غلبہ حاصل کرنا ہے جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے۔ یعنی اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے والا بنانا ہے۔ خدا تعالیٰ کے پیغام کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے اور جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے دنیا میں پھیلانے کا اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں اہتمام فرمایا ہے ، اس پیغام کو مسیح اور مہدی کے انصار بن کر دنیا میں پھیلانا ہے۔ اور پھر اپنے تک ہی محدود نہیں رکھنا بلکہ اپنی اولاد کے دل میں بھی اس دین کی عظمت