سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 370
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 350 کو اس طرح قائم کرنا ہے کہ ان میں سے نَحْنُ اَنْصَارُ الله کا نعرہ لگانے والے پیدا ہوتے چلے جائیں اور یہ تعداد پھر بڑھتی چلی جائے یہاں تک کہ دنیا پر اسلام کا ایک نئی شان کے ساتھ غلبہ ہم دیکھیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو پہلی چیز اپنی شرائط بیعت میں ہمارے سامنے رکھی ہے وہ شرک سے اجتناب ہے۔ ( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 159 - اشتہار ” تحمیل تبلیغ» 12 جنوری 1889ء۔ ضیاء الاسلام پر یس ربوہ ) مسیح موسوی کے حواریوں کا جو اثر تھا اس معیار تک قائم نہیں رہا جہاں نسلاً بعد نسل وہ موحدین پیدا کرتے چلے جاتے، اس لئے کچھ عرصے کے بعد ان کی نسلیں شرک کے پھیلانے کا باعث بن گئیں۔ اس لئے کہ انہوں نے تعلیم پر عمل نہیں کیا اور ان کے ایمانوں میں کمزوری پیدا ہوتی چلی گئی۔ اس لئے کہ خدا تعالیٰ سے تعلق آہستہ آہستہ کم ہو گیا اور دنیا داری ان کا مقصود اور مطلوب ہو گئی۔ پس مسیح محمدی کے غلاموں نے خدا تعالیٰ سے ذاتی تعلق کو نہ اپنی ذات میں کم ہونے دینا ہے نہ اپنی نسلوں میں کم ہونے دینا ہے، ورنہ پہلے حواریوں کی طرح یا ان کی نسلوں کی طرح ایمانی کمزوری پیدا ہوتے ہوتے شرک کی حالت پیدا ہو جائے گی۔ اور اب دیکھ لیں جو دوسرے مسلمان ہیں ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو مسلمان کہلانے کے باوجود قبروں اور پیروں اور اس قسم کے شرکوں میں مبتلا ہوئے ہوئے ہیں۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی ہیں جنہوں نے ہمیں حقیقی اسلامی تعلیم بتا کر اس قسم کے شرکوں سے محفوظ رکھا۔ بچوں کی بچپن سے تربیت و نگرانی کی ضرورت ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاں اعلیٰ اخلاق اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ دلائی ہے وہاں ہر احمدی کو اور جماعت میں شامل ہونے والے کو یہ فرمایا کہ اگر میری بیعت میں آنا چاہتے ہو تو شرک سے بچنے کے بعد یہ عہد کرو کہ بلاناغه پنج وقت نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کرتے رہو گے۔ پس ہمیں دیکھنا ہے کہ خدا نے نمازوں کے بارے میں کیا حکم دیا