سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 368
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 348 جیسا کہ آیت سے ظاہر ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ دیکھا کہ انکار اور کفر میں یہ لوگ بڑھتے چلے جارہے ہیں تو پھر آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ کے دین کے لئے پکار رہا ہوں اور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں۔ تمہاری بقا اسی میں ہے کہ مجھے قبول کرو اور اللہ کی پہچان کرو اور اس کے حکموں پر چلنے کی کوشش کرو۔ آگے بڑھو اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اس دین کو اختیار کرو۔ اور پھر ان میں سے جو چند حواری تھے وہ آگے آئے اور انہوں نے جب نَحْنُ أَنْصَارُ اللهِ کہا تو یہ دعا بھی کی کہ رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّهِدِينَ (آل عمران : (54) کہ اے ہمارے رب! جو کچھ تو نے اُتارا ہے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں اور ہم اس رسول کے متبع ہو گئے ہیں۔ پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے۔ رسول کی اتباع کیا ہے ؟ اس سے کئے گئے عہد کو پورا کرنا، اس کی لائی ہوئی تعلیم پر عمل کرنے کی بھر پور کوشش کرنا، اس تعلیم کی سچائی پر کامل ایمان ہونا۔ اور پھر ہم دیکھتے ہیں اس کا دوسرا ذکر سورۃ الصف میں ملتا ہے۔ یہاں فرمایا کہ یا تھا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا اَنْصَارَ اللهِ كَمَا قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيِّينَ مَنْ انْصَارِي إِلَى اللهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ فَأَمَنَتْ طَائِفَةً مِّنْ بَنِي إسْرَائِيلَ وَكَفَرَتْ طَائِفَةً فَأَيَّدْنَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَى عَدُوِّهِمْ فَأَصْبَحُوا ظَاهِرِينَ (الصف: 15) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کے انصار بن جاؤ، جیسا کہ عیسی بن مریم نے حواریوں سے کہا تھا کہ کون ہے جو اللہ کی طرف رہنمائی کرنے میں میرے انصار ہوں۔ حواریوں نے کہا ہم اللہ کے انصار ہیں۔ پس بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لے آیا اور ایک گروہ نے انکار کر دیا۔ پس ہم نے ان لوگوں کی جو ایمان لائے ان کے دشمنوں کے خلاف مدد کی تو وہ غالب آگئے۔ پس غلبہ ایمان لانے والوں کا ہوا اور یہی ان کا مقدر ہوتا ہے اور یہی الہی جماعتوں کا مقدر ہے۔ جو ایمان لاتے ہیں وہی غلبہ حاصل کرتے ہیں۔ یہاں حضرت عیسی کے حواریوں کی مثال دے کر ہمیں یہ توجہ دلائی ہے کہ اے مسلمانو ! اللہ تعالیٰ کے انصار بن جاؤ۔ جب مسیح موعود