سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 367 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 367

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول شرائط بیعت ۔۔۔ پر ہر وقت غور ہونا چاہیے 347 پس یہ تقویٰ ہے جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔ تقویٰ وہ ہے جو دل کی آواز ہو ، جو خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے دل سے اٹھنے والی آواز ہو۔ یہ عبادتیں ، شرک سے پر ہیز یا ان باتوں پر ، عمل جو انسان کے اعلیٰ اخلاق کا اظہار ہیں یہ سب کسی قسم کی چٹی، جرمانہ یا تاوان سمجھ کر نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ سے پیار کے تعلق کی وجہ سے ہو۔ ایمان کا وہ مقام ہو جس کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ (البقرة : 166) اور جو لوگ ایمان لانے والے ہیں ان کی محبت سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ہی ہوتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے محبت میں ترقی کرنے کے ساتھ ساتھ ایمان میں ترقی کرتے ہیں اور ایمان میں ترقی تقویٰ میں ترقی کا باعث بنتی ہے۔ پس ہمارے انصار اللہ کی بھی اور ہماری لجنہ اماء اللہ کی بھی یہ ایک ذمہ داری ہے کہ تقویٰ میں ترقی کر کے ہم آئندہ نسلوں کے لئے وہ پاک نمونہ قائم کرنے والے بن جائیں جو ہماری نسلوں کی روحانی زندگی اور روحانی ترقی کی ضمانت بن جائے۔ عورت اور مرد ہر ایک پر اپنے اپنے دائرے میں بعض فرائض اور ذمہ داریاں ہیں جن کا پورا کرنا دونوں کا فرض ہے اور اس کے لئے لائحہ عمل، اس کے لئے ایک گائیڈ لائن (guideline) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شرائط بیعت کی صورت میں ہمارے سامنے رکھ دی ہے، اس پر ہر وقت غور ہونا چاہیے۔ اس کا خلاصہ میں نے بیان کر دیا ہے۔ رسول کی اتباع کیا ہے ؟ اس سے کئے گئے عہد کو پورا کرنا نَحْنُ أَنْصَارُ الله کا نعرہ کیوں لگایا گیا تھا۔ قرآن کریم میں ہمیں دو جگہ اس کا ذکر ملتا ہے، ایک سورۃ آل عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَلَمَّا اَحَشَ عِيسَى مِنْهُمُ الكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (آل عمران : 53) پس جب عیسی نے ان میں انکار کارجحان محسوس کیا تو کہا کہ کون اللہ کی طرف بلانے میں میرے انصار ہوں گے تو حواریوں نے کہا کہ ہم اللہ کے انصار ہیں۔ ہم اللہ پر ایمان لے آئے ہیں اور تو گواہ بن جا کہ ہم فرمانبردار ہیں۔