سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 366 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 366

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 346 میں پھر آخرت کی فکر بھی ہونی چاہیے اور یہی ایک ایسے شخص کا، ایک ایسے مومن کا رویہ ہونا چاہیے جس کو اللہ تعالیٰ پر ایمان ہو، یقین ہو اور تقویٰ میں ترقی کرنے کے لئے اس کی کوشش ہو تو پھر اس کی یہ سوچ ہونی چاہیے کیونکہ ایک احمدی نے اپنے عہد میں، عہدِ بیعت میں اس بات کا اقرار کیا ہوا ہے کہ اس نے تقویٰ میں ترقی کرنی ہے ، تمام اعلیٰ اخلاق اپنانے ہیں، اس لئے اس کو تو عمومی طور پر اور اس پختہ عمر میں خاص طور پر یہ سوچ اپنے اندر بہت زیادہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ انصار اللہ ہیں۔ ایک ایسی عمر ہے جو نَحنُ اَنصار اللہ کا اعلان کرتے ہیں۔ ان کو تو ہر وقت یہ بات اپنے پیش نظر رکھنی چاہیے۔ عہد بیعت کا خلاصہ عہد بیعت کا خلاصہ کیا ہے ؟ شرک سے اجتناب کرنا، جھوٹ سے بچنا، لڑائی جھگڑوں اور ظلم سے بچنا، خیانت سے بچنا، فساد اور بغاوت سے بچنا، نفسانی جوش کو دبانا، پانچ وقت نمازوں کی ادائیگی کرنا، تہجد کی ادائیگی کی طرف توجہ دینا، استغفار دعاؤں اور درود کی طرف توجہ دینا، تسبیح و تحمید کرنا، تنگی اور آسائش ہر حالت میں خدا تعالیٰ سے وفا کرنا، قرآن شریف کے احکامات پر عمل کرنا، تکبر نخوت سے پر ہیز کرنا، عاجزی اور خوش خلقی کا اظہار کرنا، ہمدری خلق کا جذبہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنے اندر پیدا کرنا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کامل اطاعت کا جوا اپنی گردن پر ڈالنا۔ یہ ہے خلاصہ شرائط بیعت کا۔ پس اگر غور کریں تو یہ باتیں ایک انسان میں تقویٰ میں ترقی کا باعث بنتی ہیں۔ اور یہ کم از کم معیار ہے جس کی ایک احمدی سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے توقع فرمائی ہے۔ اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا یہی مقصد تھا کہ ایک انسان میں یہ چیزیں پیدا کی جائیں اور انسان آپ کی بیعت میں آکر تقویٰ میں ترقی کرے۔ آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ” خدا تعالیٰ نے مجھے اس لئے مامور کیا ہے کہ تقویٰ پیدا ہو اور خدا تعالیٰ پر سچا ایمان، جو گناہ سے بچاتا ہے، پیدا ہو۔ خدا تعالیٰ تاوان نہیں چاہتا بلکہ سچا تقویٰ چاہتا ہے۔“ (ملفوظات جلد 3 صفحہ 100 مطبوعہ ربوہ)