سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 365
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 345 بہتری کے لئے بڑی عمر کے لوگوں کو فکر ہوتی ہے ، بڑاتر ڈ دہوتا ہے، اسی طرح اسے دینی حالت کی ا بہتری اور جماعت سے اپنی نسلوں کو جوڑے رکھنے کے لئے بھی فکر ہونی چاہیے۔ دنیاوی بہتری کے سامان کرنے کے لئے، بچوں کے لئے جائیداد، مکان، بہتر تعلیم یا کام کی ان کو فکر ہوتی ہے۔ بڑے لوگ دعاؤں کے لئے لکھتے ہیں۔ تو اسی طرح ان کی بچوں کی روحانی اور اخلاقی حالت کی بہتری کے لئے بھی فکر ہونی چاہیے۔ یہی تقویٰ ہے اور یہی اس عہد کا حق ادا کرنے کی کوشش ہے جو ہم اپنے اجلاسوں اور اجتماعوں میں دہراتے ہیں۔ پس یا د رکھنا چاہیے کہ جماعتی ترقی ہمارے اپنے بچوں کی تربیت سے وابستہ نہیں ہے بلکہ ہماری اور ہماری نسلوں کی بقا ہر حالت میں جماعت سے جڑے رہنے سے وابستہ ہے۔ جماعت اور اسلام کا غلبہ تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے۔ اس خدا کی تقدیر ہے جو تمام طاقتوں کا مالک خدا ہے اور وہ نا قابلِ شکست اور غالب ہے۔ اگر کوئی ہم میں سے راستے کی مشکلات دیکھ کر کمزوری دکھاتا ہے، اگر ہماری اولادیں ہمارے ایمان میں کمزوری کا باعث بن جاتی ہیں، اگر ہماری تربیت کا حق ادا کرنے میں کمی ہماری اولادوں کو دین سے دور لے جاتی ہے، اگر کوئی ابتلا ہمیں یا ہماری اولادوں کو ڈانواں ڈول کرنے کا باعث بن جاتا ہے تو اس سے دین کے غلبے کے فیصلے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہاں جو کمزوری دکھاتے ہیں وہ محروم رہ جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ دوسروں کو سامنے لے آتا ہے، اور لوگوں کو سامنے لے آتا ہے، نئی قو میں کھڑی کر دیتا ہے۔ پس اس اہم بات کو ، اور یہ بہت ہی اہم بات ہے ، ہمیں ہمیشہ ہر وقت اپنے سامنے رکھنا چاہیے اور اس کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی نسلوں کی تربیت کی فکر کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم بات اس سلسلے میں ہمارے اپنے پاک نمونے ہیں۔ انصار اللہ کی عمر میں آخرت کی فکر ہونی چاہیے انصار اللہ کی عمر چالیس سال سے شروع ہوتی ہے۔ گویا انصار اللہ کی عمر میں انسان اپنی پختگی کی عمر کو پہنچ جاتا ہے اور سوچ میں گہرائی پیدا ہو جاتی ہے۔ اور جب یہ صورت ہو تو اس عمر