سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 342 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 342

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 322 قائد تعلیم نے اپنی رپورٹ دیتے ہوئے بتایا کہ سہ ماہی نصاب دیا جاتا ہے۔ ایک حدیث بھی دی جاتی ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک حدیث تین ماہ کے لئے کافی نہیں۔ ارذل العمر والے کے لئے تو ایک حدیث تین ماہ میں ہو سکتی ہے۔ جو صف دوم کے ہیں ان کے لئے زیادہ نصاب ہونا چاہیے ۔ حضرت اقدس مسیح موعود کی کوئی چھوٹی کتاب مقرر کر لیں اور وہ ان کو دیں اور پھر اس کا امتحان لیں۔ صدر مجلس نے بتایا کہ مجالس کو مقالہ ، ہستی باری تعالیٰ کے عنوان پر دیا ہوا ہے۔ نیز مختلف عناوین پر صاحب علم لوگوں سے تقاریر تیار کروائی جاتی ہیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تقریریں کروا کر سوال و جواب کروائیں پھر فائدہ ہو گا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو انصار فارغ ہیں ان کو دعوت الی اللہ کے لئے استعمال کریں اور ان سے کام لیں۔ جو جماعتیں آپ کی active ہیں وہ آپ کو بے تحاشالوگوں کی فہرستیں مہیا کر سکتی ہیں۔ دعوت الی اللہ میں سب کو active کرنا پڑے گا تب جاکر کام ہو گا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں رپورٹ پیش کی گئی کہ 24 دعوت الی اللہ کی مجالس کروائی گئی ہیں جن میں 684 افراد شامل ہوئے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا کہ ان مجالس سے جو استفادہ کیا اس سے آگے کیا فائدہ اٹھایا۔ ان لوگوں سے بعد میں رابطہ رکھنا چاہیے۔ follow up کا سلسلہ ہونا چاہیے۔ ا قائد تربیت نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ وہ انصار جو مسجد کے نزدیک نہیں رہتے اور اسی طرح وہ انصار جو رابطہ نہیں رکھتے ان کا جائزہ لیا گیا اور کوشش کی گئی۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا آپ کے اس جائزے اور کوشش کا کیا نتیجہ نکلا۔ کیا آپ اس سے مطمئن ہیں؟ قائد تربیت نے بتایا کہ آہستہ آہستہ نتیجہ نکل رہا ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تین سال سے آپ کو شش کر رہے ہیں۔ 36 مہینے گزر گئے ہیں۔ تین سال پہلے کیا حالت تھی ؟ اب کیا حالت ہے ؟ قائد صاحب نے بتایا کہ میرے پاس اب ذمہ داری آئی ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اب ذمہ داری کا آنا کوئی بہانہ نہیں ہے۔ اصل میں یہ ہے کہ شعبہ تربیت نے کیا کام کیا