سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 341
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 321 جب میں ایک بات کسی مجلس انصار اللہ کو کہتا ہوں تو وہ سب کے لئے ہوتی ہے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دعا کے بعد باری باری تمام قائدین سے ان کے شعبوں اور کام کا جائزہ لیا اور ساتھ ساتھ ہدایات سے نوازا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا کہ مجالس سے جو رپورٹ آپ کو موصول ہوتی ہیں تو ان رپورٹس پر جواب کون دیتا ہے۔ قائد صاحب عمومی نے بتایا کہ جملہ قائدین اپنے اپنے شعبہ کی رپورٹ پر جواب دیتے ہیں اور قائدین کے جوابات اور تبصرے صدر مجلس کی نظر سے گزرتے ہیں۔ صدر مجلس نے بتایا کہ وہ رپورٹس پر قائدین کی راہنمائی کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ یہ یہ جواب دیں اور اس طرح لکھیں۔ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قائدین کو خود جواب دینے دیں۔ خود کام کرنا اتنا اہم نہیں ہے جتنا کام کروانا اہم ہے۔ قائد تعلیم القرآن و وقف عارضی سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے وقف عارضی کے پروگرام کے بارہ میں دریافت فرمایا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں یہ رپورٹ پیش کی گئی کہ وقف عارضی کے پروگرام پر توجہ نہیں ہے۔ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے ( اجتماع) مجلس انصار الله یو کے (۔U۔K) پر اپنے خطاب میں انصار اللہ کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ وقف عارضی میں حصہ لیں اور باقاعدہ پروگرام بنا کر ، سکیم بنا کر وقف عارضی کریں۔ یہ خطاب ایم ٹی اے پر نشر ہو چکا ہے۔ آپ نے سنا ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب میں ایک بات کسی مجلس انصار اللہ کو کہتا ہوں تو وہ سب کے لئے ہوتی ہے۔ اچھی مجالس اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹس سے ہدایات لیتی ہیں اور ان پر عمل کرتی ہیں ، اپنے پروگرام بناتی ہیں اور پھر مجھے لکھتی ہیں کہ فلاں ملک کی مجلس عاملہ انصار اللہ کو جو ہدایات دی تھیں وہ ہم نے لی ہیں اور پروگرام بنا کر ان پر عمل کیا ہے۔