سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 339
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 319 اور اخلاص میں تو بڑی ترقی کی ہے مگر بعض اوقات پرانی عادات یا بشریت کی کمزوری کی وجہ سے دنیا کے امور میں ایسا وافر حصہ لیتے ہیں کہ پھر دین کی طرف سے غفلت ہو جاتی ہے۔ ہمارا مطلب یہ ہے کہ بالکل ایسے پاک اور بے لوث ہو جاویں کہ دین کے سامنے امور دنیوی کی حقیقت نہ سمجھیں اور قسما قسم کی غفلتیں : میں جو خدا سے دوری اور دوری اور مہجوری کا باعث ہوتی ہیں ؟ ہوتی ہیں وہ دور ہو جاویں۔“ فرمایا : ۔۔۔۔۔۔۔۔ پس ضروری ہے کہ جو اقرار کیا جاتا ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔ اس اقرار کا ہر وقت مطالعہ کرتے رہو اور اس کے مطابق اپنی عملی زندگی کا عمدہ نمونہ پیش کرو۔ عمر کا اعتبار نہیں۔ دیکھو ہر سال میں کئی دوست ہم سے جدا ہو جاتے ہیں۔“ (ملفوظات جلد دو 605-604 پنجم صفحہ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی زندگی کو اس نہج پر چلانے ولے ہوں۔ اپنی عبادتوں کے معیار اس حد تک لے جانے والے ہوں جو اللہ اور اس کے رسول ہم سے چاہتے ہیں اور جن کی تلقین حضرت مسیح موعود نے فرمائی ہے۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین“ ( خطاب بر موقع سالانہ اجتماع مجلس انصار اللہ برطانیہ 14اکتوبر 2009ء الفضل انٹر نیشنل 25 دسمبر 2009ء)