سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 338
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 318 اپنے آپ کو تیار نہیں کرے گا تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق اور افراد تیار کر دے گا، اور قو میں تیار کر دے گا اور انصار اللہ کا جو یہ سلسلہ ہے یہ جاری رہے گا اور چلتا چلا جائے گا اور ہمیشہ جاری رہے گا۔ پس اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے ، اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کا احسان سمجھتے ہوئے ہمیشہ یہ کوشش کرتے چلے جانا چاہیے کہ ہر فرد ناصر دین بنار ہے اور اس کا حق ادا کرنے والا ہو۔ دنیا میں ہم جو جماعتی ترقیات دیکھ رہے ہیں یہ کسی فرد کی یا کسی خاص جماعت کی یا وہاں کے انصار کی مرہون منت نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور جماعت کی من حیث الجماعت ایک کوشش ہے جس میں خدا تعالی برکت ڈال رہا ہے۔ جس کے پھل آج ہم کھا رہے ہیں اور انشاء اللہ کھاتے چلے جائیں گے۔ ہمارے بڑوں نے انصار اللہ ہونے کا حق ادا کیا اور بے نفس ہو کر دین کی خاطر قربانیاں کیں۔ آج یہ ہمارا فرض ہے کہ ایک خاص کوشش اور دعا کے ساتھ ساتھ اپنے پیچھے آنے والوں کے لئے راستے ہموار کرتے چلے جائیں۔ حضرت مسیح موعود ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : میں بار بار اور کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ ظاہری نام میں تو ہماری جماعت اور دوسرے مسلمان دونوں مشترک ہیں۔ تم بھی مسلمان ہو وہ بھی مسلمان کہلاتے ہیں۔ تم کلمہ گو ہو وہ بھی کلمہ گو کہلاتے ہیں، تم بھی اتباع قرآن کا دعویٰ کرتے ہو وہ بھی اتباع قرآن کے مدعی ہیں۔ غرض دعووں میں تو تم اور وہ دونوں برابر ہو مگر اللہ تعالیٰ صرف دعووں سے خوش نہیں ہو تاجب تک کوئی حقیقت ساتھ نہ ہو اور دعویٰ کے ثبوت میں کچھ عملی ثبوت اور تبدیلی حالت کی دلیل نہ ہو ۔۔۔ بیعت کی حقیقت سے پوری واقفیت حاصل کرنی چاہیے اور اس پر کار بند ہونا چاہیے اور بیعت کی حقیقت یہی ہے کہ بیعت کنندہ اپنے اندر سچی تبدیلی اور خوف خدا اپنے دل میں پیدا کرے اور اصل مقصود کو پہچان کر اپنی زندگی میں ایک پاک نمونہ کر کے دکھاوے۔ اگر یہ نہیں تو پھر بیعت سے کچھ فائدہ نہیں۔“ دو فرماتے ہیں: نصیحت کرنا اور بات پہنچانا ہمارا کام ہے۔ یوں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس جماعت نے اخلاص اور محبت میں بڑی نمایاں ترقی کی ہے۔۔۔۔۔۔ ہز ا رہا انسان ہیں جنہوں نے محبت