سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 335
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 315 توجہ پیدا ہو گی اور پھر یہ توجہ بڑھتی چلی جائے گی اور اس سے روحانیت میں ترقی ہوتی چلی جائے گی۔ پس یہ دوسری بات ہے کہ تبلیغ کے میدان میں ایک خاص شوق ، جذبے اور کوشش سے اپنے آپ کو پیش کریں۔ صف دوم کے ۔۔۔ انصار ۔۔۔ نظام وصیت میں شامل ہونے کی کوشش کریں پھر ایک بات دین کی خاطر مالی قربانیوں کی ہے۔ میں پہلے بھی اس طرف توجہ دلا چکا ہوں کہ انصار اللہ کی عمر میں ایک ایسا طبقہ بھی ہوتا ہے جو اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں یا ہنر کے کمال کو پہنچ حیتوں یا ہنر کے کمال کو پہنچ چکا ہوتا ہے۔ اسی طرح اپنی آمدنیوں کے، تنخواہوں کے ، اُجرتوں کے جو maximum سکیل ہوتے ہیں اُن کو حاصل کر رہا ہوتا ہے۔ اس وجہ سے آپ کی آمد نیوں میں جو ترقی ہے اس میں دین کا حق بھی اپنی قربانی کے معیاروں کو بلند کرتے ہوئے ادا کریں۔ ایک تو میں نے کہا تھا کہ صف دوم کے جو انصار ہیں وہ نظام وصیت میں شامل ہونے کی کوشش کریں۔ اگر صف دوم کے انصار نے اس طرف توجہ دی ہے اور ان کی اکثریت بلکہ صف دوم کے ا انصار کو تو سو فیصد شامل ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر تو اکثریت شامل ہو گئی ہے تو الحمد للہ اور اگر کوئی مزید گنجائش ہے تو اسے بھی پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور یہ کوشش مجلس انصار اللہ کی سطح پر ہونی چاہیے۔ اگر وہ معیاری عمل نہیں کئے جن کی انصار اللہ سے توقع کی جاتی ہے تو تب بھی توجہ کرنی چاہیے۔ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں ہمارے عمل ایسے ہیں کہ ہمیں وصیت کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے اگر ایسے عمل ہیں تب بھی وصیت کرنی چاہیے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کی بدولت اللہ تعالیٰ اُن میں نیکی کی روح پھونک دے بلکہ وصیت کرنے کے بعد بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مجھے لکھتے ہیں کہ خود بخود توجہ پیدا ہوتی چلی جارہی ہے جو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی وجہ بھی بن رہی ہے، دعاؤں کی طرف توجہ پیدا ہو رہی ہے ، نمازوں کا حق ادا کرنے کی طرف توجہ پیدا ہو رہی ہے، قربانیوں کی طرف توجہ پیدا ہو رہی ہے ، قربانیوں کے معیار بلند ہو رہے ہیں۔ 70 یا 75 سال کے جو انصار ہوتے ہیں ان میں سے بعض کی وصیت تو مرکز منظور کرتا ہے اور بعضوں کی نہیں