سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 336
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 316 کرتا۔ لیکن صف دوم کے جو انصار ہیں ان کو خاص طور پر اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔ پھر اسی طرح دوسری مالی تحریکات ہیں ان کی طرف بھی توجہ کی ضرورت ہے۔ اپنے نام کو دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے مدد گار اور ناصر بننے کا اعلان کر رہے ہیں، پھر اپنی قربانیوں کو دیکھیں، خود اپنے جائزے لیں اور پھر اپنے دل سے فتویٰ لیں کہ کیا ہم انصار اللہ ہونے کا حق ادا کر رہے ہیں۔ جب خود اپنی سوچ کو اس نہج پر لائیں گے تو مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ ہر ایک کے اندر پاک تبدیلیوں کے اور قربانیوں کے معیار بڑھتے چلے جائیں گے اور جب یہ بڑھیں گے تو یہی چیز ہے جو من حيث الجماعت، جماعت کی بقا اور ترقی کے سامان کرتی ہے۔ انصار اللہ کا ایک اہم کام خلافت سے وابستگی اور اس کے استحکام کی کوشش کرنا ہے پھر انصار اللہ کا ایک اہم کام خلافت سے وابستگی اور اس کے استحکام کی کوشش کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا ہر فرد اس میں لگا ہوا ہے اور بڑے اعلیٰ نمونے پیش کرتے ہیں۔ لیکن انصار اللہ کو اس پر نظر رکھنی چاہیے کہ جو معیار حاصل کر رہے ہیں یہ یہیں نہ رک جائیں بلکہ بڑھتے چلے جائیں۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے اور یقینا یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ خلافت مومنین کے لئے ضروری ہے اور قرآن کریم میں اس کا ذکر بھی فرمایا ہے جیسا کہ فرماتا ہے : وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَيْ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنَا - يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ ( النور : 56) کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں سے جو ایمان لانے والے ہیں اور نیک عمل کرنے والے ہیں اُن سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اُن کو زمین میں خلیفہ بنادے گا یعنی ان میں خلافت کا نظام قائم ہو گا اور مومنین کی جماعت خلیفہ وقت کی طرف دیکھتے ہوئے اس کی باتوں پر عمل کرنے والی ہو جائے گی۔ گویا کہ وہ ایک جان بن جائیں گے ۔ جماعت کا اور خلیفہ کا ایک وجود بن جائے گا۔ افراد جماعت اس کے اعضاء ہو جائیں گے اور خلیفہ