سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 334 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 334

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 314 تبلیغ کے میدان میں ایک خاص شوق، جذبے اور کوشش سے اپنے آپ کو پیش کریں انصار اللہ کی ایک خاصی تعداد ایسی ہے جو فارغ ہے تو بجائے گھر میں بیٹھنے کے ، گھر والوں کو پریشان کرنے کے مجلس انصار اللہ کو با قاعدہ ایسی سکیم بنانی چاہیے جس کے تحت انصار اللہ کے جو ممبران ہیں اُن کو تبلیغ کے لئے استعمال کیا جائے اور وہ انصار جو فارغ ہیں خود بھی اپنے آپ کو اس کے لئے پیش کریں اور تبلیغ کے میدان میں مدد کریں۔ جیسا کہ میں نے جماعت کو بھی کہا ہے اور ذیلی تنظیموں کو بھی کہا ہے کہ اسلام اور جماعت کا حقیقی تعارف ہر طبقہ تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے اور دس سال کا ایک منصوبہ بنانا چاہیے کہ دس سال میں یہاں یو کے (۔U۔K) میں ہر شخص تک جماعت کا ایک مختصر سا تعارف پہنچا سکیں اور پھر اس کے لئے ہمیں ہر سال کم از کم دس فیصد آبادی تک جماعت کا یہ تعارف پہنچانا ہو گا۔ صرف اتنا سا پیغام ہو کہ حضرت مسیح موعود کا پیغام کیا ہے؟ آپ کی بعثت کا مقصد کیا ہے؟ دین کی ضرورت کیا ہے؟ اتنا پیغام ہی پہنچ جائے مختصر باتیں ہوں اور آگے پیچھے ایک ورقہ شائع کیا جائے اور اُس پر ہماری ویب سائٹ کا پتہ دیا جائے۔ ایم ٹی اے کا پتہ دیا جائے تاکہ جو دلچسپی رکھنے والے ہیں وہ پھر خود ہی توجہ کرتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ ایک چھوٹا سا فنکشن کر کے چند آدمیوں کو چند کتابیں دے دی جائیں جو گھر جاکے رکھ دیتے ہیں اور پڑھتے بھی نہیں اور وہ کتابیں ضائع ہو رہی ہوتی ہیں تو اس طرح وہ کسی اور کے کام آسکتی ہیں۔ بنیادی طور پر پہلے یہ دیکھیں کہ جس کو دے رہے ہیں اس کو مذہب سے یا دین سے کوئی دلچسپی بھی ہے کہ نہیں۔ پس پہلا کام تو یہ کہ جو تعارفی ایک ورقہ ہے وہ ہر شخص تک پہنچ جانا چاہیے۔ پھر اس کے ساتھ ساتھ مزید رستے کھلتے چلے جائیں گے۔ اگر انصار اللہ میں وہ ممبر ان جو کچھ نہیں کر رہے اور فارغ بیٹھے ہیں یا کسی ڈاکٹری مشورہ کی وجہ سے، کسی چوٹ وغیرہ کی وجہ سے بھاری کام نہیں کر سکتے اور ان کو ڈاکٹروں نے سرٹیفیکیٹ دیا ہو کہ تم نے کام نہیں کرنا تو وہ یہ تبلیغ کا کام تو کر سکتے ہیں۔ وہ اس پیغام کے پہنچانے اور احمدیت کا تعارف پہنچانے کی مہم میں بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ جب وہ عملاً اس میدان میں قدم رکھیں گے تو اپنے دینی علم کی ترقی اور دعاؤں کی طرف بھی