سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 333 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 333

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 313 ضرورت نہیں۔ غور کرنے پر قرآن کے تو بے انتہا نئے نئے مطالب سمجھ آتے ہیں۔ احادیث ؟ میں بھی بعض ایسی غور طلب احادیث ہیں جو بعض اوقات اس کا علم رکھنے والوں کو بھی پوری طرح سمجھ نہیں آتیں اور وہ اس کے لئے پھر اپنے سے بہتر احادیث کا علم رکھنے والوں سے مدد لیتے ہیں۔ پھر حضرت مسیح موعود کی کتب ہیں۔ ہر مرتبہ پڑھنے پر نئے معانی اور معرفت کے نکات ان سے ظاہر ہوتے ہیں۔ اس لئے کوئی یہ دعویٰ کر ہی نہیں سکتا کہ ہم نے کتب کو پڑھ لیا ہے۔ یا قرآن کریم کا ترجمہ پڑھ لیا ہے یا تفسیریں پڑھ لی ہیں یا کچھ احادیث پڑھ لی ہیں اس لئے اب ہم اتنے قابل ہو گئے ہیں کہ اب مزید علم کی ضرورت نہیں۔ علم کو تو بڑھاتے چلے جانا چاہیے۔ جو اپنے آپ کو اپنے زعم میں بہت بڑا علمی آدمی سمجھتے ہیں ان کی سوچیں بڑی غلط ہیں۔ حضرت مصلح موعودؓ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ الفضل جماعت کا اخبار ہے۔ لوگ وہ نہیں پڑھتے اور کہتے ہیں کہ اس میں کون سی نئی چیز ہوتی ہے ، وہی پرانی باتیں ہیں۔ حضرت مصلح موعود جن کے بارے میں خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو بتایا تھا کہ وہ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا، وہ فرماتے ہیں کہ شاید ایسے پڑھے لکھوں کو یا جو اپنے زعم میں پڑھا لکھا سمجھتے ہیں کوئی نئی بات الفضل میں نظر نہ آتی ہو اور وہ شاید مجھ سے زیادہ علم رکھتے ہوں لیکن مجھے تو الفضل میں کوئی نہ کوئی نئی بات ہمیشہ نظر آجایا کرتی ہے۔ (انوار العلوم جلد 14 صفحہ 545-546) تو جس کو علم حاصل کرنے کا شوق ہو وہ تو پڑھتا رہتا ہے اور بغیر کسی تکبر کے جہاں سے ملے پڑھتا رہتا ہے۔ جو علم رکھتے ہیں انہیں اپنا علم مزید بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے اور جو کم دینی علم رکھتے ہیں اُن کو بھی اس طرف توجہ دینی چاہیے تاکہ پھر یہ علم جہاں ان کی اپنی معرفت بڑھانے کا باعث بنے وہاں ان کے بچوں کے لئے بھی نمونہ قائم کرنے والا ہو۔ جب بچے دیکھیں گے کہ گھروں میں دینی کتابیں پڑھی جا رہی ہیں تو اُن میں بھی رجحان پیدا ہو گا۔ اکثر ان گھروں میں جہاں یہ کتابیں پڑھی جاتی ہیں اُن کے بچے شروع میں ہی چھوٹی عمر میں ہی کتابیں پڑھ رہے ہوتے ہیں اور یہ علم پھر سب سے بڑھ کر تبلیغی مید ان میں کام آتا ہے۔