سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 332
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 312 ہیں۔ ایک بچے نے اُس بزرگ کو صحیح جواب دیا تھا کہ اگر میں کیچڑ میں پھسلا تو میرے پھسلنے سے مجھے چوٹ لگے گی لیکن اگر آپ پھسلے تو پوری قوم کو لے کر ڈوب جائیں گے۔ تو اس بزرگ نے بھی اس کا صرف ظاہری مطلب نہیں لیا بلکہ اُن کی سوچ اس بات کی گہرائی تک گئی کہ بچہ صحیح کہہ رہا ہے۔ میرے کئی شاگرد ہیں۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو میرے پیچھے چلنے والے ہیں۔ میری زندگی کے ہر عمل میں ذرا سی لغزش بھی میرے پیچھے چلنے والوں کی دنیا و آخرت خراب کر سکتی ہے۔ پس یہ سوچ ہے جو انصار اللہ کے ہر ممبر کو ہر ناصر کو اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ تب ہی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم حقیقی انصار اللہ ہیں۔ ورنہ مجلس انصار اللہ کی ممبر شپ لے لینا یا اُس میں شامل ہو جانا یا چالیس سال کی عمر کے بعد طوعاً و کرھا یا مجبوری سے اس میں شامل ہو جانا یا جماعتی قواعد کی روح سے اس کا ممبر بنایا اپنی آمد میں سے کچھ چندہ مجلس دے دینا یا چیرٹی واک میں حصہ لے لینا یا اجتماع پر چند پروگراموں میں حصہ لے لینا یا اجتماع میں دو دن کے لئے لئے شامل ہو جانا آپ کو انصار اللہ نہیں بنا سکتا۔ انصار اللہ وہ ہیں جو دیکھیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں کیا حکم دیئے ہیں۔ ایک مومن کی حیثیت سے ہمارے کیا کیا فرائض ہیں اور پھر ہم نے ان فرائض پر خالص خدا تعالیٰ کی رضا کی حصول کے لئے کس طرح عمل کرنا ہے۔ کس طرح ان کو بجالانے کے لئے سعی اور کوشش کرنی ہے۔ پس یہ جو عبادتوں اور نمازوں کی طرف توجہ دلانی ہے یہ بہت اہم چیز ہے۔ انصار اللہ میں سے تو سو فیصد کو اس طرف توجہ ہونی چاہیے۔ اپنا علم مزید بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے اس کے علاوہ میں کچھ اور باتوں کی طرف بھی آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ اُن میں سے ایک یہ ہے کہ دینی علم کی طرف توجہ اور اس کا حصول قرآن کریم، احادیث اور حضرت مسیح موعود کی کتب کے پڑھنے سے حاصل ہوتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ پنگھوڑے سے لے کر لحد یعنی قبر تک علم حاصل کرو اور یہ علم حاصل کرتے چلے جانا ایک مومن کا فرض ہے۔ اس لئے یہ تو کوئی دعویٰ نہیں کر سکتا کہ میر اعلم اتنا وسیع ہو گیا ہے کہ اب مجھے علم کی