سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 331
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 311 اپنے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں کمی کر رہے ہوں گے وہاں وہ ایک مذہبی فریضہ پر پوری طرح عمل نہ کر کے ایک ایسا جرم کر رہے ہوں گے جو مذہبی جرم ہے۔ نماز ایک ایسا اہم فریضہ ہے جس کا ادا کرنا بہت ضروری ہے کلمہ طیبہ پڑھنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کرنے کے بعد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے بعد نماز کے فریضہ کو اسلام کے سب سے اہم رکن کے طور پر رکھا گیا ہے۔ گویا کلمہ طیبہ مسلمان ہونے کا زبانی اقرار ہے اور نماز اس کی عملی تصویر ہے۔ پس جب تک عمل نہ ہو زبانی دعوے کر کے ایک انسان مجرم بنتا ہے۔ ایک ملکی قانون کو تو انسان مان لیتا ہے لیکن اگر عمل اس کے الٹ کرے تو کیا یہ ملکی قانون توڑنے والا مجرم نہیں کہلائے گا۔ یقینا انسان اس سے مجرم بنتا ہے تو اس طرح نماز کی ادائیگی نہ کرنے والا بھی مذہبی مجرم ہے اور پھر جب بچوں کی تربیت کی ذمہ داری بھی انصار پر ڈالی گئی ہے تو ان کے سامنے نیک نمونے قائم نہ کر کے اور پھر اس امانت کا حق ادانہ کر کے ایسے لوگ قومی مجرم بن جاتے ہیں۔ اگر قوم میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے تو وہ ان لوگوں کے عمل کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جن کے سپر د یہ ذمہ داری لگائی ہوتی ہے۔ اگر ان کی نسل میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے تو ان کی نگرانی اور دعا میں کمی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ پس جب انصاریہ کہتے ہیں کہ الحمد للہ ہم مجلس انصار اللہ کے ممبر ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس مجلس کے ممبر ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں مدد گاروں کی مجلس ہے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی توحید کے قیام اور آنحضور کا جھنڈ ادنیا میں گاڑنے کے لئے ہر قسم کی عملی مدد کرنے کے لئے بھی تیار ہیں اور عملی مدد کا پہلا اور بنیادی قدم بلکہ ایسا قدم جسے خدا تعالیٰ نے فرائض میں شامل فرمایا ہے، نماز ہے اور عبادت کے یہی عملی نمونے جب گھروں میں قائم ہوتے ہیں، نماز کے قیام کی گھروں میں بات ہوتی ہے تو نئی نسل بھی اس کی اہمیت اپنے ذہنوں میں بٹھا لیتی ہے اور اس طرح ہم اپنی نسلوں کی تربیت انہی بنیادوں پر کر رہے ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتائی ہیں اور یہ ایک بہت بڑا اہم کردار ہے جو خاموشی سے گھر کا سربراہ ادا کر رہا ہوتا ہے۔ پس ہمیشہ یاد رکھیں کہ انصار اللہ کی کمزوری سے نسلوں میں کمزوریاں پیدا ہوتی