سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 330
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 310 کو سامنے دیکھتے ہوئے خوف زدہ ہو جاتا ہے اور خوف کی یہ حالت پھر اسے مجبور کرتی ہے کہ خالص ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور جھکے اور اُس کا قرب چاہے۔ گزشتہ دنوں ہم رمضان کے مہینے سے گزرے ہیں۔ امید کرتا ہوں کہ کمزوروں میں بھی ان دنوں میں ایک خاص تبدیلی پیدا ہوئی ہو گی اور نمازوں کی طرف توجہ ہوئی ہو گی۔ اور جیسا کہ مساجد کی حاضری سے ثابت ہے کہ توجہ ہوئی ہے۔ پس اس توجہ کو اگر انصار سو فیصدی اپنی زندگیوں کا حصہ بنالیں تو ایک عظیم الشان پاک تبدیلی ہمیں جماعت کے اندر نظر آئے گی جس کے اثرات نہ صرف ہم اپنے اندر محسوس کر رہے ہوں گے بلکہ اپنے بیوی بچوں میں بھی محسوس کر رہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جب نماز پڑھنے کا حکم فرمایا تو یہ بھی اعلان فرمایا کہ اس ذریعہ سے ایک پاک انقلاب تمہارے اندر پیدا ہو گا۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ کوئی دعا یا ذکر بتائیں جس سے ہمارے اندر پاک تبدیلی پیدا ہو اور وہ پاک تبدیلی اگر پیدا ہو جائے تو پھر قائم بھی رہے۔ سب سے بڑی دعا اور سب سے بڑا ذکر نماز ہی ہے بشر طیکہ اس کا حق ادا کرتے ہوئے وہ ادا کی جائے۔ اس لئے حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز عبادت کا مغز ہے۔ پس جس کو مغز مل جائے جس میں تمام قسم کی دعائیں آجاتی ہیں اور نہ صرف دعائیں آجاتی ہیں بلکہ انسان کی ہر طرح کی عاجزی اور انکساری اور کم مائیگی اور تضرع کی وہ حالتیں بھی آجاتی ہیں جس سے ایک ما اور وہ کا قرب حاصل کرنے والا بن سکتا ہے تو اُس کو کسی دوسری قسم کے اذکار اور مو دعاؤں کی کیا ضرورت ہے ؟ پس جب انصار اللہ کا نام اپنے ساتھ لگایا ہے تو سب سے پہلا اور بڑا اور اہم تقاضا انصار اللہ بننے کا یہی ہے کہ اس کی عبادت کے معیار قائم کئے جائیں۔ جیسا کہ میں نے کہا انصار اللہ نے اپنے تعلق باللہ کے ساتھ ساتھ نوجوانوں اور بچوں کے لئے بھی نمونہ بننا ہے اور اگر انصار اللہ میں نمازوں کے بارے میں سستیاں ہوتی رہیں یا ان میں سے ایک بڑا حصہ سستی دکھاتا رہے یا اگر اکثریت نہ سہی مگر ایک حصہ سستی دکھاتا رہے تو جہاں وہ نماز کے اہم فریضہ پر توجہ نہ دے کر