سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 329 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 329

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 309 جو انصار کا ہونا چاہیے۔ اس لئے یاد دہانی میں یہی کہا جاتا ہے کہ ان امور کی طرف توجہ دو، ان ذمہ داریوں کی طرف توجہ دو، ان کاموں کی طرف توجہ دو جو تمہارے ذمہ لگائے گئے ہیں۔ سب سے بڑی دعا اور سب سے بڑا ذ کر نماز ہی ہے صدر صاحب انصار اللہ سے جب میں نے پوچھا کہ کوئی خاص بات جو انصار کو کہنے والی ہے تو بتائیں۔ انہوں نے کہا اور جیسا کہ انہوں نے رپورٹ میں پڑھا اور اجتماع کے دوران سیشن بھی ہوتے رہے کہ اس سال نمازوں کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانے کو ہم نے سب سے پہلی ترجیح میں رکھا ہے لیکن جو ٹارگٹ ہمیں حاصل کرنے چاہیے تھے وہ حاصل نہیں کر سکے۔ اس لئے اگر اس طرف توجہ دلانا چاہیں تو دلا سکتے ہیں۔ صدر صاحب کا یہ جواب جہاں مجھے حیران کرنے والا تھا وہاں فکر مند کرنے والا بھی تھا کیونکہ نوجوانوں اور بچوں کو تو یہ بار بار نصیحت کی جاتی ہے اور والدین کو اس کے لئے سب سے موثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے کہ نمازوں کی طرف توجہ دو اور حقیقت میں والدین ہیں بھی ایک بہت مؤثر ذریعہ ۔ لیکن اگر ان میں خود ہی جن کی اکثریت انصار اللہ میں ہے، اس کام کی طرف پوری توجہ نہیں دی جارہی تو وہ بچوں اور نوجوانوں کو کس طرح نمازوں کی اہمیت کی طرف توجہ دلا سکتے ہیں یا ان پر نمازوں کی اہمیت واضح کر سکتے ہیں یا اس کی تلقین کر سکتے ہیں۔ وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے تو اپنے بڑوں کو اس قدر تردّد سے اس طرف توجہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ان کو تو اس اہتمام سے نمازیں پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ یہ بہت خطرناک چیز ہے۔ اس طرف پوری توجہ نہ دینے کی وجہ سے جہاں خود انصار اللہ میں اپنی روحانی حالت میں ٹھہراؤ یا گراوٹ کا اظہار ہوتا ہے وہاں یہ امر اگلی نسلوں میں نمازوں کی اہمیت کی طرف توجہ نہ دلانے کا باعث بھی بن رہا ہے۔ تقویٰ سے دور لے جانے والا بن رہا ہے اور پھر انصار اللہ کی عمر تو ایک ایسی عمر ہے جس میں زندگی کے انجام کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ آخر کار بڑھتی عمر کے ساتھ ایک دن انسان کا خاتمہ ہونا ہے اور وہی انجام ہے۔ تو انجام کی طرف یہ جو تیزی سے بڑھتے ہوئے قدم ہیں وہ تو بہت زیادہ فکر اور تردد کے ساتھ اس طرف توجہ دلانے والے ہونے چاہئیں۔ پس ایک مومن جسے خدا تعالیٰ کا خوف ہو ، اپنی عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنے انجام