سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 328 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 328

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 308 سب سے پہلا اور بڑا اہم تقاضا انصار اللہ بننے کا عبادت کے معیار کو قائم کرنا ہے ۔۔۔ خلافت سے وابستگی اور اس کے استحکام کی کوشش کرنا ہے دو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: جماعتی ذیلی تنظیموں کے نظام میں انصار اللہ کی تنظیم ایک ایسی تنظیم ہے جس کے ممبران اپنی عمر کے لحاظ سے عمر کے اُس حصہ میں پہنچ جاتے ہیں جہاں مکمل طور پر بالغ سوچ ہوتی ہے اور ہونی بھی چاہیے۔ اِس عمر میں انسان ہر کام سوچ کر اور جذبات سے بالا ہو کر اور ہوش وحواس میں کرتا ہے سوائے ان لوگوں کے جو ارذل العمر کو پہنچ جاتے ہیں اور پھر اُن کی یادداشتوں اور اعضاء میں اتنی کمزوری پیدا ہو جاتی ہے کہ گویا وہ بچپن کی عمر میں واپس لوٹ جاتے ہیں اور پیغام رسانی والے پیغام نے یہ صحیح لکھا ہے کہ آخر میں سب کچھ ذہن کھا جاتا ہے اور نہ ذہن رہتا ہے اور نہ ہڈیاں رہتی ہیں۔ انصار اللہ میں انسان چالیس سال کی عمر میں داخل ہوتا ہے اور ایک بڑا لمبا عرصہ کام کرنے کی بھی اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کی بھی توفیق ملتی ہے۔ اس عمر میں وہ اپنی دنیوی امور کی کے معراج کو بھی حاصل کرتا ہے اور روحانی امور کی معراج کو بھی حاصل کرتا ہے اور کر سکتا ہے۔ اس بلوغت کی سوچ کی عمر اور تجربہ کار انسان کو بچوں اور نوجوانوں کی طرح نصیحت تو نہیں کی جا سکتی۔ ہاں یاد دہانی کروائی جاسکتی ہے۔ گو یاد دہانی بھی نصیحت کی ہی ایک قسم ہے اور اُس کا ایک رنگ ہے لیکن یہ نصیحت اس قسم کی ہے کہ جو انصار کو اس لحاظ سے کروائی جاتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو ذمہ داریاں تم پر ڈالی ہیں اور جو تم پر عائد ہوتی ہیں شاید انہیں بھول رہے ہو۔ علم تو اکثر کو ہوتا ہے اور یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ جو جماعتی نظام میں شامل ہے اور جو اس عمر کو پہنچ گیا ہے اُس کو بعض باتوں کا علم نہیں۔ علم تو ہے لیکن علم کے باوجود توجہ نہیں دی جارہی یا بھول رہے ہیں۔ بہر حال جو بھی وجہ ہے یاد دہانی تو اس لحاظ سے کروائی جاتی ہے کہ جس بات پر توجہ نہیں دے رہے اور بھول رہے ہو اس پر توجہ کر دیا اگر توجہ ہے تو اُس معیار کے حصول کی کوشش کرو