سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 315
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 295 کی مدد سے تھک جائے گا؟ یہ تو خیال ہی باطل ہے۔ پس ہمیں اپنے جائزے لینے کی بہت زیادہ ضرورت ہے، اپنی عبادتوں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے،اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے، اپنی اطاعت میں کامل ہونے کی ضرورت ہے ، اخلاق میں اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ دعوت الی اللہ کے ذمہ دار بن جاؤ دعوت الی اللہ کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے اور پہلے سے بڑھ کر ضرورت ہے۔ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے جو ہو اچلائی ہے کہ اللہ تعالیٰ خود بخود دلوں کو پھیر رہا ہے۔ اگر ہماری کوشش سے کسی کا دل پھر تا ہے تو اس کا ثواب ملے گا کیونکہ دعوت الی اللہ بڑا کام ہے جس کے ذریعہ غلبہ ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو دلوں کو پھیر رہا ہے۔ جن کے دل اللہ تعالیٰ پھیرنا چاہتا ہے، جنہیں ہدایت دینا چاہتا ہے وہ پیغام کے متلاشی ہیں۔ اگر یہ پیغام آپ کے ذریعہ پہنچ جائے تو اس کا ثواب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو کہا کہ انصار اللہ بنو تو اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ دعوت الی اللہ کے ذمہ دار بن جاؤ۔ دلوں کو پھیر نا تو اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور اس نے اس کا اعلان فرمایا ہوا ہے لیکن جب دلوں کو پھیرنے کی یہ ہوا چل رہی ہے تو اس میں جب تم مدد گار بننے کا اعلان کر رہے ہو گے تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بن رہے ہو گے۔ پس اس طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ نیک لوگوں کی، پاک لوگوں کی اللہ تعالیٰ کے مدد گاروں کی اور ان لوگوں کی جو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والے ہیں اللہ تعالیٰ نے کیا نشانی بتائی ہے۔ فرمایا وَ يَا مُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَ يَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (آل عمران : 105) اور چاہیے کہ تم میں سے ایک جماعت ہو جو بھلائی کی طرف بلاتے رہیں، اچھی باتوں کی تعلیم دیں، بری باتوں سے روکیں اور یہی ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔ اب اس میں انصار اللہ کے مختلف طبقوں کے جو لوگ ہیں وہ ہر ایک اپنے اپنے جائزے لیں۔