سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 314
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 294 انا ورسلي (المجادلة : 2) کہ لکھی ہوئی بات ہے کہ میں نے اور میرے رسولوں نے غالب آناہی آنا ہے اور کوئی دنیا کی طاقت اس غلبہ کو نہیں روک سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا کہ میں نے غالب آنا ہے۔ دوسری طرف یہ اعلان کروایا کہ کون ہیں انصار اللہ جو اللہ کے کاموں میں مددگار بنیں۔ تو کیا اللہ تعالیٰ بندوں کی مدد کے بغیر غالب نہیں آسکتا ؟ کیا اللہ تعالیٰ کو غالب آنے کے لئے بندوں کی ضرورت ہے ؟ اللہ تعالیٰ غالب آئے گا اور ضرور آئے گا۔ آج بھی جماعت احمد یہ دنیا میں پھیل رہی ہے تو کسی انسانی کوشش سے نہیں پھیل رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ خود فرشتوں کے ذریعہ سعید روحوں کو اس طرف پھیر رہا ہے۔ اور ہمارے آباؤ اجداد میں بہت سے ایسے ہیں جو کسی دلیل کے بغیر ، کسی علم کے بغیر صرف اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے احمدیت کی طرف مائل ہوئے۔ ان میں بعض خوابوں کے ذریعہ احمدی ہوئے۔ پس یہ غلبہ تو انشاء اللہ ہو گا لیکن اگر ہم اس میں شامل ہو جائیں گے تو ثواب سے حصہ لینے والے ہوں گے جو اس کام کے صلہ میں ملے گا۔ اللہ تعالیٰ کو اپنی بڑائی کے لئے نہ ہماری عبادتوں کی ضرورت ہے، نہ اپنا پیغام پہنچانے کے لئے ہماری کوششوں کی ضرورت ہے، نہ ہماری مدد کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا والله غَالِبٌ عَلَى امْرِه (يوسف: 22) کہ اللہ اپنے فیصلہ پر غالب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ اور اس کے رسول غالب آئیں گے تو پھر انصار اللہ کی مدد کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ غالب ہے اپنے فیصلہ میں اور اس کو پورا کرتا ہے۔ یہ تو صاف ظاہر ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا، یہ تو ہماری بہتری کے لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں پاک کرنے کے لئے یہ فرما رہا ہے ہمیں اس ثواب میں حصہ دار بنانے کے لئے فرما رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے لیکن میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تمہارا ہی فائدہ ہے کہ یہ نیک کام جس کی طرف تمہیں بلایا جارہا ہے ، جس کا اعلان منہ سے کیا ہے اس کا اپنے نمونوں سے بھی اعلان کرو۔ دلوں میں بٹھاؤ اس کو اور اس کا اظہار کرو۔ یہ تمہارے فائدہ کے لئے ہے۔ اگر تم اس کا فائدہ جانو تو کبھی ذرہ بھر بھی تمہارے دل میں یہ خیال پیدا نہ ہو یا یہ گنجائش نہ رکھو کہ ہم نے دنیا کو دین پر مقدم کرنا ہے بلکہ ہمیشہ دین تمہاری دنیا پر مقدم رہے گا۔ پس یہ سوچیں ہیں جو ہم نے اپنے اندر پیدا کرنی ہیں۔ جو زمین و آسمان کا مالک ہے، جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے، جو نہ اونگھتا ہے نہ سوتا ہے اور نہ تھکتا ہے تو کیا وہ اپنے نبی