سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 313
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 293 ہوں، ان سے وہ کام کروانے والی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔ عبادت وہ ہو کہ خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہو۔ پس یہ ہے عبادت کا معیار جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام چاہتے ہیں۔ پھر آپ نے آئینہ کی مثال دی کہ درستی اور صفائی کی جائے تو اس میں شکل نظر آتی ہے۔ تو عبادتیں بھی ایسی ہوں کہ ہماری عبادتوں میں ہمیں خدا نظر آنے لگ جائے۔ ہماری عبادتیں دکھاوے کی عبادتیں نہ ہوں۔ ہمارا مسجد آنا یا اجلاس پہ آنا اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کیلئے ہو ، نہ کہ دکھاوے کیلئے۔ اور جب یہ معیار ہم حاصل کر لیں گے تو پھر ہم اپنی بقا کے سامان بھی پیدا کر رہے ہوں گے ، اپنے بیوی بچوں کی بقا کے سامان بھی پیدا کر رہے ہوں گے ، اپنی نسلوں کی حفاظت بھی کر رہے ہوں گے۔ پس یہ معیار ہم نے حاصل کرنے ہیں۔ پھر فرمایا کہ جو اچھی زمین تیار کی جائے اس میں انواع و اقسام کے پھل پیدا ہوتے ہیں۔ تو یہ باتیں ہیں جو ثمر آور ہوں گی اور ایسے پھل لائیں گی جو نہ صرف ہمارے اندر پاک تبدیلی کے معیار پیدا کریں گی بلکہ اس کی وجہ سے ہم اپنے ماحول میں اللہ اور رسول کا پیغام پہنچا کر نیک اور پاک اور اور سعید روحوں کو اپنی طرف کھینچ رہے ہوں گے اور اپنی اولادوں کی تربیت کر کے ان کو بھی پھلوں سے لا د ر ہے ہوں گے ، ان کی بہترین پرورش کر کے اور اپنے ارد گرد کے ماحول میں اور معاشرے میں تبلیغ کے ذریعہ سے بھی پھل حاصل کر رہے ہوں گے تو دنیا کو خدا تعالیٰ کے دامن میں لانے والے ہوں گے۔ اور یہی چیزیں اللہ تعالیٰ کی رضا کا باعث بنتی ہیں۔ پس ایسے باغ لگانے کی ہم نے کوشش کرنی ہے جو ہمیشہ پھل دار باغ ہوں۔ جو ایسے سدا بہار درخت ہوں جن میں ہمیشہ پھل لگتے رہیں اور کبھی خزاں نہ آنے پائے۔ تو یہ کوششیں بھی ہم نے کرنی ہیں۔ محنت اور اخلاص اور وفا اور عبادتوں کے درخت جب ہم اپنے دلوں میں لگائیں گے تو یہ ہمیں حقیقی انصار اللہ بنائیں گے۔ پس یہ باتیں ہیں جو ہمیں بحیثیت انصار اللہ اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے ورنہ اللہ تعالیٰ تو نبیوں کی جماعت کے بارہ میں کہہ ہی چکا ہے کہ وہ غالب آئیں گے ۔ كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنَ