سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 312
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 292 ہے۔ تو جو عبادت کا حق ادا نہیں کرتے وہ پھر انصار اللہ کیسے کہلا سکتے ہیں ؟ جو مقصد میں نے ابھی حواری ہونے کے اور اس حوالہ سے انصار اللہ بننے کے بتائے ہیں تو کیا ایسے لوگ پھر حواری کہلانے کے مستحق ہیں؟ صحیح اور پکے مومن کہلانے کے مستحق ہیں؟۔ ایسے لوگ تو مومن نہیں ہو سکتے اور نہ ہی ایسے لوگ انصار اللہ کہلا سکتے ہیں۔ انصار اللہ کی عباد تیں کیسی ہونی چاہئیں ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : رو عبادت اصل میں اس کو کہتے ہیں کہ انسان ہر قسم کی قساوت ، کجی کو دور کر کے دل کی زمین کو ایسا صاف بنادے جیسے زمیندار زمین کو صاف کرتا ہے۔ عرب کہتے ہیں مور معبد جیسے سرمہ کو باریک کر کے آنکھوں میں ڈالنے کے قابل بنالیتے ہیں اسی طرح جب دل کی زمین میں کوئی کنکر، پتھر ، ناہمواری نہ رہے اور ایسی صاف ہو کہ گویا روح ہی روح ہو اس کا نام عبادت ہے۔ چنانچہ اگر یہ درستی اور صفائی آئینہ کی کی جاوے تو اس میں شکل نظر آجاتی ہے۔ اور اگر زمین کی جاوے تو اس میں انواع و اقسام کے پھل پیدا ہو جاتے ہیں۔ پس انسان جو عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے ، اگر دل صاف کرے اور اس میں کسی قسم کی کجی اور ناہمواری، کنکر، پتھر نہ رہنے دے تو اس میں خدا نظر آئے گا۔“ فرمایا: ”میں پھر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے درخت اس میں پیدا ہو کر نشو و نما پائیں گے اور وہ اعمار شیریں و طیب ان میں لگیں گے جو اُكُلُهَا دَائِم (الرعد:36) کے مصداق ہوں گے ۔ “ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 347 مطبوعہ ربوہ ) یہ چیزیں ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہم سب سے چاہتے ہیں۔ فرمایا کہ جیسے سرمہ کو باریک کر کے آنکھوں میں ڈالنے کے قابل بنا لیتے ہیں (آج کل تو سرمہ اتنا استعمال نہیں ہوتا۔ لیکن بعض ملکوں میں ہوتا بھی ہے) اور سرمہ یا تو آنکھوں کی خوبصورتی کے لئے یا آنکھوں کی بیماری کو دور کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ پس جو عبادت کرنے والے ہیں ان کو بھی اپنے معیار اتنے اونچے کرنے چاہئیں کہ عبادتیں ان کی خوبصورتی بھی بن جائیں اور ان کی بصارت اور بصیرت کے لئے ، اللہ تعالیٰ کا فہم و ادراک حاصل کروانے کے لئے ہر دم ان کی رہنمائی کرنے والی