سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 305 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 305

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 285 جاتی ہے تو بالکل بے فائدہ ہے لیکن اگر اس لئے ہے کہ ہم انصار اللہ ہیں اور کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے جس میں اخلاص اور وفا کا اظہار ہوتا ہو تو پھر واقعی آپ کا یہ تاریخیں تبدیل کرنا اور سارا اجتماع ان تاریخوں میں منتقل کرنا قابلِ ستائش ہے۔ بس اصل اصول یہ ہے کہ اس کو پکڑے رکھیں کہ اخلاص ، وفا، اطاعت اور کامل فرمانبرداری دکھاتے ہوئے انصار اللہ نے آگے بڑھتے چلے جانا ہے۔ اگر ہم نے انصار اللہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو ۔۔۔ ہر قربانی کیلئے تیار ہونا ہو گا اس مضمون پر میں پہلے بیلجئم میں بھی اور یہاں بھی روشنی ڈال چکا ہوں۔ ۔ چکا ہوں۔ تاریخ ہمیں جن انصار اللہ کا بتاتی ہے وہ یسوع مسیح کے حواری تھے۔ اور انہوں نے حواریوں سے پوچھا کہ کون ہوں گے میرے مدد گار ؟ تو حواریوں نے جواب دیا کہ نَحْنُ اَنْصَارُ الله - حواری کا کیا مطلب ہے ؟ کیا حواری وہ تھے جو اس وقت فوری طور پر ایمان لائے تھے اور یہ کافی ہو گیا اور وہ جو حضرت مسیح کو اچھا سمجھنے والے تھے یا صرف وہ جو کہتے تھے کہ ہم آپ پر ایمان لے آئے باقی عمل کی کوئی ضرورت نہیں یہ کافی ہو گیا۔ اگر اس کے گہرے مطالب دیکھے جائیں تو حواری وہ لوگ ہیں کہ جن سے قربانیاں مانگی جارہی ہیں۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جو مکمل طور پر دین کو اپنے اوپر لاگو کرنے کا وعدہ کرنے والے ہوں۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ لوگ جو دین کی اشاعت میں مددگار بننے والے ہوں اور ایک اس کا یہ مطلب ہے کہ ایسے لوگ جو اپنے پاک نمونے قائم کرنے والے ہوں۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ انتہائی قابلِ اعتماد ساتھی بننے کا عہد کرنے والے ہوں اور پھر یہ کہ اس حد تک وفادار اور ایماندار ہوں کہ کوئی چیز ان کی وفا اور ایمان کے آڑے نہ آئے اور اس وجہ سے پھر وہ بہترین مشیر بننے والے ہوں، مشورے دینے والے ہوں اور پھر یہ کہ دوستی کا حق نبھانے والے دوست ہوں۔ یہ نہیں کہ منہ سے کہہ دیا کہ ہم د دوست ہیں اور جب وقت آئے تو دوست کو چھوڑ کر چلے جائیں۔ پھر یہ کہ ان میں ایسا رشتہ ہونا چاہیے کہ جو تمام رشتوں پر حاوی ہو ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے عہد بیعت میں جو شرائط کھی ہیں اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ میرے سے وفا اور اطاعت کا ، وفاداری، فرمانبرداری اور خلوص