سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 306
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 286 کا جو تعلق ہے وہ سب رشتوں سے بڑھ کر ہو گا۔ یہ عہد آپ نے قبول کیا ہے اور یہ عہد آپ انصار کے اجتماع میں دہراتے بھی رہتے ہیں۔ گو ان الفاظ میں نہیں لیکن خلاصہ یہی ہے کہ ہم ہر قربانی کے لئے تیار رہیں گے ۔ تو اس لحاظ سے اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم ایسے حواری ہیں جو ان شرائط پر پورا اترتے ہیں؟ اور اگر ہوں گے تو پھر انصار اللہ کہلانے کے حق دار کہلائیں گے۔ پس حواری ہونے کی اور اس کے نتیجہ میں انصار اللہ ہونے کی یہ وضاحت اور مطلب ہے۔ اگر ہم نے انصار اللہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو یہ کام کر کے دکھانے ہوں گے ، ہر قربانی کے لئے تیار ہونا ہو گا، اپنی اناؤں کو چھوڑنا ہو گا، اپنی سوچوں کو بدلنا ہو گا۔ اپنے آپ کو کامل طور پر اس تعلیم کے مطابق ڈھالنا ہو گا جو اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی ہے۔ صرف منہ سے یہ کہہ دینا کہ ہم ایمان لے آئے اور ہم حواریوں میں داخل ہو گئے کہ ہم انصار اللہ ہیں، کافی نہیں۔ یہ توقعات حضرت عیسی علیہ السلام نے ان حواریوں سے کی تھیں اور انہوں نے انہیں پورا کرنے کی کوشش کی ، گو وہ پوری طرح نہیں کر سکے۔ لیکن مسیح محمدی کے جو حواری ہیں، وہ جو نعرہ لگاتے ہیں کہ نَحْنُ اَنْصَارُ اللهِ تو ان کا یہ کام ہے کہ کامل طور پر کامل الایمان ہو کر ، کامل طور پر وفا شعار ہو کر ، کامل طور پر اطاعت گزار ہو کر اپنے آپ کو ایسے حواری بناکر دکھائیں جو واقعی طور پر انصار اللہ ہوں اور اس کو سچ کر کے دکھائیں۔ صحابه رسول حقیقی معنوں میں انصار اللہ تھے پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انصار تھے۔ انہوں نے قربانیاں دکھائیں۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف نہیں لائے تھے اُس وقت بالکل اور سوچ تھی۔ جب آپ مدینہ تشریف لے آئے ، جب ایمان میں ترقی کرنے لگے ، جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسی نے کام دکھایا تو وہی لوگ جو کچھ شرائط کے ساتھ آپ کی حفاظت کرنے کو تیار تھے آپؐ کے دائیں لڑنے پر بھی تیار ہو گئے ، آپ کے بائیں لڑنے پر بھی تیار ہو گئے ، آپ کے آگے لڑنے کو بھی تیار ہو گئے اور آپ کے پیچھے لڑنے کو بھی تیار ہو گئے۔ اور یہ اعلان کیا کہ دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک ہماری لاشوں کو نہ روند دے۔ یہ تھے وہ انصار اللہ ۔ پھر یہی نہیں کہ