سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 302
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 282 حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تو مسجد جو ہے ایک بہت بڑا راستہ ہے تبلیغ کا۔ اس کے لئے بھی سب سے پہلے وہ لوگ جن کی سوچیں mature ہیں، جنہوں نے انصار اللہ ہونے کا اعلان کیا ہے ان لوگوں کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔ صرف اس میں ایک دوسرے پہ الزام تراشیوں سے کچھ نہیں ہو گا۔ یہ کام نہیں کر رہا یا وہ کام نہیں کر رہا۔ اس سے نتیجے حاصل نہیں ہو سکتے۔سب کو اکٹھا ہو کر اپنے رخوں اور اپنی سمتوں کا تعین کرنا ہو گا، اپنی منزلوں کا تعین کرنا ہو گا، اپنے ٹارگٹ مقرر کرنے ہوں گے ، تب اس میں برکت بھی پڑے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ آپ لوگ یہاں بھی اس قابل ہوں گے کہ یہاں مسجد تعمیر کر سکیں۔ یہاں بے شک میں نے کہا کہ تربیت کے لئے سینٹر ہیں لیکن جہاں مسجدیں ہماری نہیں ہیں یہی رپورٹ آتی ہے کہ جو مسلمانوں میں سے احمدی ہوتے ہیں شروع میں کمزور ہوتے ہیں، ابتدائی حالت ہوتی ہے دوسرے مسلمان ان کو ورغلا کر لے جاتے ہیں کہ دیکھو انہوں نے تو مسجد نہیں بنائی، یہ تو مسلمان نہیں ہیں سینٹر بنائے ہیں، ہال بنائے ہیں، کمرہ بنایا ہوا ہے جہاں یہ نماز پڑھتے ہیں۔ یہ اصل میں دکھاوے کی باتیں ہیں۔ اگر یہ مسلمان ہوتے تو سب سے پہلے مسجد بناتے۔ اور یہ بہت بڑی روک ہے تبلیغ میں۔ اس لئے اس طرف اب بہر حال توجہ کرنی چاہیے۔ اور اسی حوالے سے اب میں اپنی بات ختم کرتا ہوں کہ قربانیاں بے شک آپ نے کی ہیں اور کر رہے ہیں۔ جہاں تک میر اعلم ہے کچھ رقم آپ کے پاس موجود بھی ہے لیکن مسجد بنانے کے لئے جگہ نہ مل سکی ہے۔ اس لئے کہ سب کی مل کر جو کوشش صحیح رنگ میں ہونی چاہیے وہ نہیں ہوئی۔ اگر آپ ایک ہو کر کوشش کریں تو انشاء اللہ اس میں برکت پڑ جائے گی۔ اور جو رقم آپ نے جمع کی ہے اس کا صحیح استعمال بھی ہو جائے گا۔ تو یہاں بھی مسجد بنانے کی اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے اور اسی طرح آپ کو تبلیغ کے میدان میں بھی پہلے سے بڑھ کر توجہ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ اپنی تربیت کے لئے بھی آپ کو پہلے سے زیادہ توجہ پیدا ہو۔ اپنی اولادوں کی تربیت کی طرف بھی آپ کو پہلے سے زیادہ توجہ پیدا ہوا اور سب سے بڑھ کر دعاؤں اور خدا تعالیٰ سے تعلق میں آپ بڑھنے والے ہوں۔ تبھی آپ حقیقی رنگ میں انصار اللہ کہلانے والے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ اس ملک میں بھی احمدیت اسلام کا پیغام جلد