سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 301
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 281 اگر کہیں جماعت کو متعارف کروانا ہو، اسلام سے متعارف کروانا ہو ،خود مسلمانوں کو آرگنائز کرنا ہو تو مسجد تعمیر کر دو۔ بیلجیئم ان ملکوں میں سے ہے جہاں ابھی تک با قاعدہ مسجد نہیں، سینٹر بے شک ہیں ، بڑی مالی قربانیاں کی ہیں، سینٹرز خریدے گئے ہیں، برسلز میں خریدا ہے اور جگہ بھی ہیں اور تربیت کے لحاظ سے تو ٹھیک ہے آپ کرتے ہیں لیکن تبلیغی میدان جو ہے وہ بغیر مساجد کی تعمیر کے لوگوں کی اس طرف توجہ ہونے میں ایک بہت بڑی روک بن جاتا ہے۔ کیونکہ لوگ اس طرح توجہ نہیں کرتے۔ مسلمان ان ملکوں میں بہت سارے آئے ہیں وہ مسجد کو دیکھتے ہیں، اس طر ف بھی توجہ کرنی چاہیے اور انصار اللہ جو چالیس سال کی عمر کے ہیں اور اس سے اوپر ہیں۔ یہ ایک ایسی عمر کا گروپ ہے age group جسے کہتے ہیں انگریزی میں یہ جو حصہ ہے اس گروپ میں جو لوگ ہیں ان میں عموماً آمدنی کے لحاظ سے بھی اچھے حالات ہوتے ہیں اس لئے مالی قربانی کی طرف انصار کو زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: مسجد سے کس حد تک تعارف پیدا ہوتا ہے۔ میں ابھی فرانس میں مسجد کا افتتاح کر کے آیا ہوں۔ وہاں لوگ احمدی جو تھے وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ہماری مسجد کا اتنا تعارف ہو گا۔ نیشنل ٹی وی نے ، اخباروں نے اور میڈیانے جتنی کوریج دی ہے اس کو وہ کروڑوں تک بھی خرچ کرتے تو شاید تبلیغ وہاں تک نہ پہنچ سکتی جس طرح اس مسجد کی تعمیر سے پہنچ گئی۔ پھر برلن مسجد کی تعمیر ہے۔ مجھے کسی نے بتایا کہ یورونیوز (Euro News) نے کافی وقت کی خبر دی ہے۔ یہاں فرنچ میں، جرمن میں ، انگریزی میں خبریں آتی ہیں۔ تو احمدیت کی تبلیغ ہوئی اور اس سے لوگوں کو تعارف حاصل ہوا۔ ابھی جرمنی میں ہی تھا کہ ایک بوڑھی مائی برلن سے آئی کہ میں نے خلیفہ کو ملنا ہے۔ خلیفہ یہاں آئے ہوئے ہیں۔ اس سے پوچھا کہ کیسے پتہ لگا تو کہنے لگی میں نے ٹی وی پر دیکھا، اخبار میں پڑھا تو مجھے شوق پیدا ہوا کہ میں خود جاکر دیکھوں۔ تو اسی طرح اور لوگ بھی آئے مسجد دیکھنے کے لئے۔ اسی اخباروں کے تعارف کی وجہ سے اور تبلیغ کے نئے راستے بھی کھلے، بیعتیں بھی ہوئیں۔