سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 30 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 30

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 10 کرنے پڑیں گے۔ تو خدمت دین کرنے کے مواقع بھی ملتے رہیں گے۔ تو یہ تقویٰ کے معیار قائم رہیں گے تو نظام جماعت بھی مضبوط ہو گا اور ہوتا چلا جائے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ ایسے عہدیدار جو پورے تقویٰ کے ساتھ خدمت سر انجام دیتے ہیں اور دے رہے ہیں ان کے لئے ایک حدیث میں جو میں پڑھتا ہوں، ایک خوشخبری ہے۔ حضرت ابو موسی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ مسلمان جو مسلمانوں کے اموال کا نگران مقرر ہوا اگر وہ امین اور دیانتدار ہے اور جو اسے حکم دیا جاتا ہے اسے صحیح صحیح نافذ کر تا ہے اور جسے کچھ دینے کا حکم دیا جاتا ہے اسے پوری بشاشت اور خوش دلی کے ساتھ اس کا حق سمجھتے ہوئے دیتا ہے تو ایسا شخص بھی عملاً صدقہ دینے والے کی طرح صدقہ دینے والا شمار ہو گا۔ (مسلم کتاب الزكوة باب اجر الخازن الامين والمرأة) مجالس کی گفتگو امانت ہے ۔۔۔ اس میں بعض اوقات اچھے بھلے سلجھے ہوئے کارکن بھی شامل ہو جاتے ہیں اور ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں اور اس طرح غیر محسوس طور پر ایک کارکن دوسرے کارکن کے متعلق بات کر کے یا ایک عہدیدار دوسرے بالا عہدیدار کے متعلق بات کر کے یا اپنے سے کم عہدیدار کے متعلق بات کرکے ، لوگوں کے لئے فتنے کا موجب بن رہا ہو تا ہے۔ کمزور طبیعت والے ایسی باتوں کا خواہ وہ چھوٹی باتیں ہی ہوں، بُرا اثر لیتے ہیں۔ اور ایسے کارکنوں کو بھی جو اپنے ساتھی عہدیداران کے متعلق باتیں کرنے کی عادت پڑ جائے تو منافق بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔ اس لئے تمام کارکنان اور عہدیداران کو جو ایسی باتیں خواہ مذاق کے رنگ میں ہوں کرتے ہیں ان کو اپنے عہدوں اور اپنے مقام کی وجہ سے ایسی باتیں کرنے سے پر ہیز کرنا چاہیے اور ایسی مجلسوں میں بیٹھنے والوں کے لئے یہاں اجازت ہے۔ اب ویسے تو مجلس کی باتیں امانت ہیں باہر نہیں نکلنی چاہئیں لیکن اگر نظام کے خلاف باتیں ہو رہی ہوں تو یہاں اجازت ہے کہ چاہے وہ اگر نظام کے متعلق ہے یا نظام کے کسی عہدیدار کے متعلق ہیں اور اس سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ اس میں کئی اعتراض کے پہلو ابھر سکتے