سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 31
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 11 ہیں، نکل سکتے ہیں تو اس کو افسران بالا تک پہنچانا چاہیے اور ایک حدیث میں اس کی اس طرح اجازت ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجالس کی گفتگو امانت ہے سوائے تین مجالس کے۔ ایسی مجلس جہاں ناحق خون بہانے والوں کے باہمی مشورہ کی مجلس ہو۔ پھر وہ مجلس جس میں بدکاری کا منصوبہ بنے۔ اور پھر وہ مجلس جس میں کسی کا مال ناحق دبانے کا منصوبہ بنایا جائے۔ تو جہاں ایسی سازشیں ہو رہی ہوں جس سے کسی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو ، ایسی باتیں سن کر متعلقہ لوگوں تک یا افسران تک پہنچانا یہ امانت ہے۔ ان کو نہ پہنچانا خیانت ہو جائے گی۔ تو نظام کے متعلق جو باتیں ہیں وہ بھی اسی زمرہ میں آتی ہیں کہ اگر کوئی نظام کے خلاف بات کر رہا ہو اور بالا افسران تک نہ پہنچائیں۔ پھر بعض دفعہ عہدیداران کے خلاف شکایات پیدا ہوتی ہیں تو بعض اوقات یہ صرف غلط فہمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ یا بعض دفعہ کسی نے اپنے ذاتی بغض کی وجہ سے ، جو کسی عہدیدار کے ساتھ ہے، اپنے ماحول میں بھی لوگ اس عہدیدار کے خلاف باتیں کر کے لوگوں کو اس کے خلاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں بھی آپ کو چاہیے کہ امانتیں ان کے صحیح حقداروں تک پہنچائیں۔ یعنی باتیں بالا افسران تک، عہدیدارن تک، نظام تک پہنچائیں لیکن تب بھی یہ کوئی حق نہیں پہنچتا بہر حال کہ ادھر ادھر بیٹھ کر باتیں کی جائیں بلکہ جس کے خلاف بات ہو رہی ہے مناسب تو یہی ہے کہ اگر آپ کی اس عہدیدار تک پہنچ ہے تو اس تک بات پہنچائی جائے کہ تمہارے خلاف یہ باتیں سننے میں آرہی ہیں۔ اگر صحیح ہیں تو اصلاح کر لو اور اگر غلط ہے تو جو بھی صفائی کا طریقہ اختیار کرنا چاہتے ہو کرو۔ پھر کسی کی پیٹھ پیچھے باتیں کرنے والوں کو ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ باتیں صحیح ہیں یا غلط یہ غیبت یا جھوٹ کے زمرے میں آتی ہیں اور غیبت کرنے والوں کو اس حدیث کو یا درکھنا چاہیے کہ اگلے جہان میں ان کے ناخن تانبے کے ہو جائیں گے جس سے وہ اپنے چہرے اور سینے کا گوشت نوچ رہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے محفوظ رکھے۔ مومن وہ ہیں جو اپنی امانتوں اور عہدوں کی روایت رکھتے ہیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: