سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 29
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 9 خیانت کے زمرے میں آجائے گی۔ عہدیداران کو بھی، کارکنان کو بھی اس حدیث کو ہمیشہ مد نظر رکھنا چاہیے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امانتیں ضائع ہونے لگیں تو قیامت کا انتظار کرنا۔ سائل نے عرض کیا: یارسول اللہ ! ان کے ضائع ہونے سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: جب نا اہل لوگوں کو حکمران بنایا جائے تو قیامت کا انتظار کرنا۔ (بخاری كتاب الرقاق باب رفع الامانة) عہدہ بھی ایک عہد ہے، خدمت بھی ایک عہد ہے ۔۔۔ ہمیشہ یادر کھنا چاہیے عہدیداران کو ، کارکنان کو کہ عہدہ بھی ایک عہد ہے، خدمت بھی ایک عہد ہے جو خدا اور اس کے بندوں سے ایک کارکن، ایک عہدیدار ، اپنے فرائض کی ادائیگی کے لئے کرتا ہے۔ اگر ہر عہدیدار یہ سمجھنے لگ جائے کہ نہ صرف قول سے بلکہ دل کی گہرائیوں سے اس بات پر قائم ہو کہ خدمت دین ایک فضل الہی ہے۔ میری غلط سوچوں سے یہ فضل مجھ سے کہیں چھن نہ جائے تو ہماری ترقی کی رفتار اللہ تعالیٰ کے فضل سے کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ ہم سب کے لئے لمحہ فکر یہ ہے، ایک سوچنے کا مقام ہے کہ امانت ایمان کا حصہ ہے، اگر امانت کی صحیح ادائیگی نہیں کر رہے، اگر اپنے عہد پر صحیح طرح کار بند نہیں، جو حدود تمہارے لئے متعین کی گئی ہیں ان میں رہ کر خدمت انجام نہیں دے رہے تو اس حدیث کی رُو سے ایسے شخص میں دین ہی نہیں اور دین کو درست کرنے کے لئے اپنی زبان کو درست کرنا ہو گا۔ اور فرمایا کہ زبان اس وقت تک درست نہ ہو گی جب تک دل درست نہ ہو گا۔ اور پھر ایک کڑی سے دوسری کڑی ملتی چلی جائے گی۔ تو حسین معاشرے کو قائم رکھنے کے لئے ان تمام امور کی درستی ضروری ہے۔ ایک بات اور واضح ہو کہ صرف منہ سے یہ کہہ دینے سے کہ میر ادل درست ہے، کافی نہیں۔ ہر وقت ہم میں سے ہر ایک کے ذہن میں یہ بات رہنی چاہیے کہ خدا تعالیٰ دلوں کا حال جانتا ہے۔ وہ ہماری پاتال تک سے واقف ہے۔ وہ سمیع و بصیر ہے اس لئے اپنے تمام قبلے درست